مقصدِ تخلیق
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۲۴
اعتبار سے کیا ہے تو وہ یقین کے ساتھ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے گا۔
فتنہ دہیما یا ذہنی کنفیوزن کا یہ معاملہ اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اگر کوئی ایسا لٹریچر تیار ہو جو دینِ اسلام کو دوبارہ اس کے صحیح اسلوب میں بیان کرے، تب بھی عملاً وہ زیادہ مفید نہ ہوگا۔ صحیح لٹریچر کو عملی طور پر مفید بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران لکھی جانے والی کتابوں کو اسلام کے کتب خانے میں کلاسکل لٹریچر (classical literature) کی حیثیت سے محفوظ کر دیا جائے ۔ اسلام کی شرح کے اعتبار سے، اس کی مستند حیثیت باقی نہ رہے۔
مقصدِ تخلیق
بعد کے دور میں جو فکری کنفیوزن (intellectual confusion) پیدا ہوا، اس کا اصل سبب یہ تھا کہ تعبیرات کے اختلاف کے درمیان یہ حقیقت گم ہوگئی کہ انسان کی تخلیق کا مقصد (purpose of life) کیا ہے۔ اس حالتِ انتشار کو ختم کرنے کی صورت صرف یہ ہے کہ انسان کے مقصدِ تخلیق کو متعین کیا جائے ۔ مقصدِ تخلیق کے تعین کے بعد ایسا نہیں ہوگا کہ اختلافات کا عملاً خاتمہ ہو جائے ۔ جو واقعہ پیش آئے گا، وہ صرف یہ کہ اختلافات کی حیثیت ثانوی (secondary) بن جائے گی ۔ اور اختلافات کا ثانوی بن جانا ہی اس مسئلے کا عمومی حل ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوگا کہ لوگوں کا ذہنی فوکس بدل جائے گا۔ لوگوں کی ساری توجہ انسان کے اصل تخلیقی مقصد پر مرتکز ہو جائے گی۔
فوکس کے تعدد سے فکری انتشار پیدا ہوتا ہے اور فوکس کے تو حد سے فکری اتفاق وجود میں آتا ہے (5 جنوری 2014)
واٹس ایپ پر روزانہ مولانا وحیدالدین خاں کی حکمت اور نصیحت سے بھر پور مختصر گفتگو سننے کے لئے اپنا واٹس ایپ نمبر ذیل کے نمبر پر بھیجیں اور اس نمبر کو اپنے موبائل میں محفوظ (save) کر لیں: +91-9999944119
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues