اسلام اور دور جدید
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۳۶
اسلام اور دور جدید
موجودہ زمانہ میں نظری اور عملی اعتبار سے بہت سی تبدیلیاں وقوع میں آئی ہیں۔ اس بنا پر موجودہ زمانہ کو نیا زمانہ کہا جاتا ہے۔ بیسویں صدی اس نئے زمانہ کا نقطۂ انتہا ہے۔ اس زمانہ میں ایک نیا ظاہر ہ پیدا ہوا جس کو جدید ذہن (modern mind) کہا جاتا ہے۔ اس صورت حال کی بنا پر یہ ضرورت پیش آئی کہ جدید ذہن کے لئے اسلام کو قابل فہم (understandable) بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے مسلم اہل علم نے مختلف زبانوں میں کئی کتابیں تیار کیں۔ انہی میں سے ایک مشہور کتاب ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) کی ہے، جو خاص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب اس موضوع پر مصنف کے انگریزی خطبات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے :
The Reconstruction of Religious Thought in Islam
مگر عجیب بات ہے کہ یہ کتاب اپنے قاری کو کنفیوزن کے سوا کچھ اور نہیں دیتی۔ کتاب کے مضامین اتنے زیادہ غیر واضح ہیں کہ کوئی شخص یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کتاب کا خلاصہ کیا ہے۔ حتیٰ کہ کتاب کا ٹائٹل (The Reconstruction of Religious Thought in Islam) خود بھی ایک غیر واضح ٹائٹل ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ یہ ہوگا الہیاتی افکار کی تشکیل جدید۔ مگر یہ ٹائٹل نہ انگریزی میں قابل فہم ہے اور نہ اردو ترجمہ میں قابل فہم۔
ڈاکٹر محمد اقبال کی مذکورہ کتاب میں یہ کنفیوزن کیوں پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ بلکہ اس کا ایک معلوم سبب ہے۔ اس معلوم سبب کو لے کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو آسانی کے ساتھ مذکورہ کتاب کے مندرجات میں کنفیوزن کا سبب دریافت کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد اقبال اصلاً ایک فلسفی آدمی تھے۔ انھوں نے قدیم فلسفہ کو بطور سبجیکٹ پڑھا تھا اور اس کا مطالعہ کیا تھا۔ اس تعلیمی پس منظر کی بنا پر ان کے ذہن میں جو ماڈل بنا وہ فلسفیانہ ماڈل تھا۔ وہ چیزوں کو اپنے اسی فلسفیانہ ماڈل کی روشنی میں دیکھتے تھے۔ وہ اپنے مخصوص شاکلہ کی بنا پر ہر چیز کو اسی فلسفیانہ ماڈل میں ڈھالتے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues