Heaven and Hell are states, not localities.
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۳۷
رہے۔ مگر فلسفیانہ ماڈل ایک انسان ساز (man-made) ماڈل ہے جب کہ اسلام اس معنی میں کوئی فلسفیانہ مذہب نہیں۔ اسلام فطرت خداوندی پر مبنی ایک مذہب ہے۔
اسلام کی آئیڈیالوجی اور اس کی تعلیمات فطرت خداوندی کے اصولوں پر مبنی ہیں۔ اس حقیقت کا اعلان قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: فَطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (30:30) اسی طرح فرمایا کہ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ (13:2)۔ ڈاکٹر محمد اقبال کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے فلسفیانہ ماڈل کو شعوری یا غیر شعوری طور پر معیاری ماڈل سمجھ لیا اور اسی فلسفیانہ ماڈل کے مطابق اسلام کی تشریح کرنے لگے۔ چونکہ فطرت کا ماڈل الگ ہے اور فلسفہ کا ماڈل الگ۔ اس فرق کی بنا پر اقبال کے بیانات میں کنفیوزن پیدا ہوگیا۔ اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد اقبال نے قرآن کے جنت اور جہنم کے تصور کو واضح کرنے کی کوشش کی تو جنت اور جہنم کو اپنے اختیار کردہ فلسفیانہ ماڈل میں ڈھال دیا۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے کہ جنت اور جہنم احوال ہیں، وہ مقامات نہیں:
Heaven and Hell are states, not localities.
اقبال کے اس بیان میں ایک فطری حقیقت کو فلسفیانہ ماڈل میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک عدم مطابقت کا معاملہ ہے۔ اسی عدم مطابقت نے اقبال کے بیان میں کنفیوزن پیدا کر دیا۔ اس نوعیت کی ایک اور مثال حال میں سامنے آئی ہے۔ ایک معاصر مسلم دانشور، جنھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بخوبی دستگاہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بیان کے مطابق ستر سال سے زیادہ مدت تک اسلامیات کا مطالعہ کیا ہے۔ ایک سیمینار میں انھوں نے اس موضوع پر ایک مقالہ پیش کیا۔ یہ مقالہ ایک مسلم میگزین میں چھپا ہے۔ اور اس کا عنوان یہ ہے: علم: اسلامائزیشن سے تخلیق کی طرف یہ عنوان بالکل غیر واضح عنوان ہے۔ اسی طرح اس مقالے کے بیانات میں بھی وضوح (clarity) موجود نہیں۔ میں نے کئی تعلیم یافتہ لوگوں کو ان کا مقالہ پڑھوایا اور پوچھا کہ اس کا خلاصہ کیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues