Al-Risala · August 2015 · page 45

زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۴۵

زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں

اسٹیٹس مین (یکم ستمبر 1967) کی ایک رپورٹ کو بہت کم اخباروں نے اہمیت دی۔ یہ ایک امریکی خاتون ڈاکٹر سارہ سی۔ گڈ شنسکی (Sarah C. Gudschinsky) کی ہندوستان میں آمد کی اطلاع تھی۔ دراصل بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مشنری خاتون کس عظیم مگر خاموش ادارہ کی رکن ہیں اور کس خاص مقصد کے تحت ہندوستان آئی ہیں۔

ڈاکٹر گڈ شنسکی اوکلا ہوما یو نیورسٹی میں سمر انسٹی ٹیوٹ آف لنگسٹکس (اختصار SIL) کی فیکلٹی کی ممبر ہیں۔ اس مسیحی ادارہ نے تبلیغ کی دنیا میں ایک بالکل نیا میدان کھولا ہے— وہ اپنے کام کا آغاز ان قدیم قبائل میں کرتے ہیں جو نہایت پس ماندہ ہیں اور جن کی بولیاں ابھی تک پڑھنے لکھنے کی زبانیں نہیں بنی ہیں۔

یہ نہایت متمدن اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ دنیا کی انتہائی غیر مہذب قوموں میں جا کر برسہا برس رہتے ہیں، ان کی بولیوں کو سیکھتے ہیں، پھر ان کے حروف تہجی بناتے ہیں، قواعد مرتب کرتے ہیں، نصابی کتابیں لکھتے ہیں، پریس قائم کرتے ہیں اور اس طرح ان کی زبانوں کو تحریری زبان بنا کر اور ان میں کتابیں تیار کر کے انھیں پڑھانا شروع کرتے ہیں۔ ان کی نصابی کتب میں بائبل کا ترجمہ بھی ضروری جزو ہوتا ہے۔

یہ ان کی خدمت کے لئے ان کی بستیوں میں جدید طرز کے اسپتال کھولتے ہیں۔ اس تعلیم اور اخلاقی اثر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب یہ قبائل تعلیم یافتہ ہو جاتے ہیں تو وہ صرف تعلیم یافتہ نہیں ہوتے بلکہ اسی کے ساتھ عیسائی مذہب کو بھی قبول کر چکے ہوتے ہیں۔

اس ادارہ کا سب سے زیادہ نمایاں کام پیرو کے وسیع جنگلوں میں ہو رہا ہے جہاں کثرت سے قدیم وحشی قبائل بستے ہیں اور جن کے درمیان رابطہ کا ذریعہ صرف ہوائی جہاز اور کشتیاں ہیں۔ یہ مسیحی مبلغین ان لق ودق جنگلوں کے اوپر ہوائی جہاز سے اڑتے ہیں اور ریڈیو اور ٹرانسمیٹر لے کر عین وحشی قبائل کی بستیوں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page