Al-Risala · September 2015 · page 17

آئیڈیالوجی کی طاقت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۷

آئیڈیالوجی کی طاقت

عن ابن عباس۔ قال: لما مشوا إلى أبي طالب وكلموه - وهم أشراف قومه عتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة، وأبو جهل بن هشام، وأمية بن خلف، وأبو سفيان بن حرب، في رجال من أشرافهم - فقالوا : يا أبا طالب إنك منا حيث قد علمت، وقد حضرك ما ترى وتخوفنا عليك وقد علمت الذي بيننا وبين ابن أخيك فادعه فخذ لنا منه وخذله منا ليكف عنا ولنكف عنه، وليدعنا وديننا ولندعه ودينه۔ فبعث إليه أبو طالب فجاءه فقال: يا ابن أخي هؤلاء أشراف قومك قد اجتمعوا إليك ليعطوك وليأخذوا منك۔ قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عم كلمة واحدة تعطونها تملكون بها العرب وتدين لكم بها العجم (البداية والنهاية: 3/123) کچھ لوگوں نے اس حدیث کا یہ مطلب نکالا کہ اسلامی حکومت قائم کرو حالانکہ اس حدیث کا سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس حدیث میں کلمہ کی بات کہی گئی ہے نہ کہ حکومت کی۔ کلمہ کا مطلب وہی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ideology کہا جاتا ہے۔

اس حدیث میں دراصل آئیڈیالوجی کی طاقت کو بتایا گیا ہے۔ قبائلی دور (tribal age) میں لوگ سمجھتے تھے کہ تلوار سب سے بڑی طاقت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمھاری یہ سوچ غلط ہے۔ تم کو آئیڈیالوجی کی طاقت معلوم نہیں، اس لیے تم ہمیشہ لڑتے جھگڑتے رہتے ہو۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عملاً ایسا ہی ہوا۔ اسلام کی آئیڈیالوجی توحید کی آئیڈیالوجی ہے۔ قدیم زمانے میں اسلام اپنی اسی آئیڈیالوجی کی طاقت سے پھیلتا رہا۔ موجودہ زمانے میں جب کہ مسلمان اس احساس میں جی رہے ہیں کہ سیاسی خلافت ختم ہوگئی۔ مگر عین اسی وقت ساری دنیا میں اسلام اپنی آئیڈیالوجی کے ذریعے پھیل رہا ہے۔ ہر جگہ لوگ اسلام کی آئیڈیالوجی میں سچائی کو دریافت کرتے ہیں۔ اور پھر اسلام کے حلقہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ آئیڈیالوجی انسان کو مسخر کرتی ہے، اور جب انسان مسخر ہوجائیں تو کوئی اور چیز تسخیر کے لیے باقی نہیں رہتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues

Printed page