دعوت کا اسلوب
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۸
دعوت کا اسلوب
ربیعہ بن عباد الدیلی روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ کو ذوالمجاز کے سوق میں دیکھا۔ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے: یا أیها الناس قولوا : لاإله إلا الله ، تفلحوا (مسند احمد : 16023)۔ اس روایت کو لے کر بعض لوگ کہتے ہیں کہ دعوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگوں سے مل کر ان کو کلمہ پڑھنے کے لیے کہا جائے ۔ اس کے علاوہ دعوت کا کوئی اور اسلوب درست نہیں ہو سکتا۔ اگر دعوت کا یہی واحد اسلوب تھا تو قرآن میں یقینا اس کو بتایا گیا ہوتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں۔ البتہ قرآن کے مطالعے سے اس سلسلے میں کئی اسلوب ملتے ہیں۔ مثلاً یا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِر (2-1 : 74) ۔ اسی طرح اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: یَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ (5:66) ۔ خود احادیث سے بھی دوسرے اسالیب معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : عرض علیهم الإسلام، وتلا عليهم القرآن (سیرت ابن هشام: 1/428)، وغیرہ۔
اصولی طور پر دعوت کا صرف ایک اسلوب ہے، اور وہ قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بتایا گیا ہے: قُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا (4:63)۔ یعنی ان سے ایسے اسلوب میں کلام کرو جو ان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ اس قرآنی ہدایت کے مطابق ظاہری اعتبار سے دعوت کے مختلف اسلوب ہو سکتے ہیں۔ اسلوب ہمیشہ مخاطب کے اعتبار سے متعین ہوگا۔ پہلے مخاطب کا مطالعہ کیا جائے گا، اور پھر اس کے ذہن کے اعتبار سے ایسا اسلوب اختیار کیا جائے گا جو اس کے ذہن کو اپیل کرنے والا ہو۔ دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ مدعو کے اوپر اتمام حجت ہو جائے : لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ (4:165)۔ حجت کبھی کسی قسم کے مقرر الفاظ کی ادائیگی سے نہیں ہوتی۔ حجت کے لیے ضروری ہے کہ اس میں مدعو کے ذہن کی رعایت کی گئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا اسلوب مدعو کے اعتبار سے متعین ہوگا، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues