Al-Risala · September 2015 · page 32

قتل سب سے بڑی برائی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۲

وہ خود اپنے اوپر ہتھیار چلاتا ہے۔ ایسا انسان اپنے پر تشدد عمل سے خدا کے فیصلے کو بدلنا چاہتا ہے، مگر خالق کا فیصلہ کبھی بدلنے والا نہیں۔

خالق کا منشا ہے کہ یہ دنیا انسانوں کا ہرا بھرا باغ بن جائے۔ اس باغ کا ہر درخت پھول اور پھل دے کر دنیا کی ترقی میں اضافہ کرے ، ہر انسان اپنے پوٹینشل (potential) کو ایکچول (actual) بنا کر خالق کے منصوبے کی تکمیل کرے۔ ہر انسان تہذیب (سویلائزیشن کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کرے۔ ہر انسان دنیا میں آزادانہ عمل کر کے خود کچھ پائے، اور اپنے پائے ہوئے کو اگلی نسلوں کی طرف منتقل کرے۔ ہر انسان تاریخ کا ایک صحت مند حصہ (healthy part) بن جائے۔ مگر تشدد کلچر (culture of violence) اس پوری خدائی اسکیم کو برباد کر دینے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد (violence) سب سے بڑا جرم ہے۔ ایسے مجرمین کے لیے بلا شبہ خدا کے یہاں سخت عذاب ہے۔ کوئی بھی خود ساختہ نظریہ تشدد کے مجرمین کو جنت میں پہنچانے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد پسند انسان دنیا میں کانٹے دار جھاڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے انسانوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ کاٹے جائیں اور ان کو ہمیشہ کے لیے کائنات کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے ۔

امن (peace) تعمیر کا عمل ہے، اس کے مقابلے میں جنگ تخریب کا عمل ہے۔ امن پسند انسان کے لیے خدا کے یہاں ابدی آرام گاہ ہے۔ اور تشدد پسند انسان کے لیے خدا کے یہاں ابدی قید خانہ ۔

انسان اس دنیا میں آزاد ہے، لیکن اس کی آزادی محدود آزادی ہے۔ اس کی آزادی اس لیے ہے کہ وہ اس کو خالق کے منصوبے کے مطابق استعمال کرے۔ مگر جو شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے، وہ اپنے عمل سے صرف یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو آزادی دی جائے، وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو عقل دی جائے، جس کے ذریعے وہ اچھے برے کو سمجھ سکتا تھا، اور اپنی زندگی کی درست تشکیل کر سکتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues

Printed page