تاریخ ساز قربانی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۶
تھا۔ ماحول کے خلاف کسی سچائی کو اختیار کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اس کے سوا سب کچھ چھوڑنے پر اپنے کو راضی کرلے۔ جب آپ نے یہ فیصلہ کیا تو اللہ نے اس کو اس طرح قبول فرمایا کہ آپ پر سچائی کی معرفت کے دروازے کھول دئے اور آپ کو اپنی پیغمبری کے لئے چن لیا۔ یہ خدائی کام آپ کے سپرد ہوا کہ آپ اپنے وقت کے انسانوں کو اصل حقیقت سے آگاہ کردیں۔
اس کے بعد آپ کے ایثار کا دوسرا شدید ترین دور شروع ہوتا ہے۔ آپ کے زمانہ کا حکمراں نمرود (ارنمو) خدائی بادشاہ بن کر لوگوں کے اوپر حکومت کرتا تھا۔ اس زمانہ کے دوسرے بادشاہوں کی طرح نمرود نے عوام میں یہ عقیدہ بٹھا رکھا تھا کہ اس کو حکومت کرنے کا خدائی حق حاصل ہے۔ وہ کہتا تھا کہ سورج سب سے بڑا معبود ہے اور نمرود کا خاندان اس معبود کا دنیوی مظہر ہے۔ سورج جس طرح ’’ آسمانوں پر حکومت کر رہا ہے اسی طرح سورج کی اولاد ہونے کی وجہ سے اس کو یہ حق ہے کہ وہ زمین پر بسنے والوں کا حاکم بنے۔
اس اعتبار سے سورج چاند کی پرستش ، اس زمانہ میں محض ایک مذہبی عقیدہ نہ تھی بلکہ وہ اس وقت کی سیاست کی اعتقادی بنیاد بھی تھی۔ موجودہ زمانہ کی سیاست کی نظریاتی بنیاد عوامی حاکمیت ہے، اُس زمانہ کی سیاست کی نظریاتی بنیاد خدائی حق حکمرانی تھا اور یہ خدائی حق حکمرانی اس شاہی خاندان کے لئے مخصوص سمجھا جاتا تھا جو مفروضہ معبود کی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔ حضرت ابراہیم کا گھرانا اس نظام میں خاص اہمیت رکھتا تھا کیوں کہ آپ کا باپ آزر (Terah) اس زمانہ کے بت سازی کے ’’ کارخانہ‘‘ کا مالک تھا اور شاہی بت خانہ میں افسر اعلیٰ کا درجہ رکھتا تھا۔ وقت کے سیاسی نظام میں اس کو بہت اونچی سیاسی حیثیت حاصل تھی۔ اس کا عہدہ اس زمانہ کے لحاظ سے تقریباً وہی تھا جو آج کل کسی ایسی سیاسی پارٹی کے صدر کا ہوتا ہے جو کسی ملک میں حکمراں پارٹی کی حیثیت رکھتی ہو۔
ان حالات میں حضرت ابراہیم کے لئے بنا بنایا کامیابی کا راستہ یہ تھا کہ وہ اپنے باپ کی جگہ لیں، وہ قائم شدہ نظام کا ساتھ دے کر اس میں اونچا مقام حاصل کرلیں ۔ مگر آپ نے دوبارہ ایثار و قربانی کے راستہ پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنے باپ آذر سے صاف لفظوں میں کہا: کیا تم
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues