Al-Risala · October 2015 · page 7

تاریخ ساز قربانی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۷

ستاروں کو خدا مانتے ہو اور ان کی شکلیں بنا کر ان کو پوجتے ہو۔ یہ ایک کھلی ہوئی گمراہی ہے جس میں میں تم کو اور تمھاری قوم کو دیکھ رہا ہوں (6:74)۔

حضرت ابراہیم نے اپنے وقت کے ستارہ پرستی کے نظام سے اپنے باپ کی طرح موافقت نہیں کی بلکہ وہ اس کے خلاف داعی اور مصلح بن کر کھڑے ہو گئے ۔ جس نظام میں اعلیٰ ترین عہدہ ان کا انتظار کر رہا تھا وہ خود اس نظام کو بدلنے کے علم بردار بن گئے۔ انھوں نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کہ ناحق کو مان کر اس کے ڈھانچے میں عزت اور ترقی کے خواب دیکھیں بلکہ ناحق کی تردید اور حق کا اعلان کرنے کو انھوں نے اپنی زندگی کا مشن بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گھر سے نکال دئے گئے۔ قوم میں حقیر سمجھے جانے لگے ۔ خود بادشاہ وقت بھی آپ کا دشمن بن گیا۔ کیوں کہ آپ کی تحریک، اس وقت کے حالات میں بادشاہ کو اس کی سیاسی زمین سے محروم کرنے کے ہم معنی تھی۔

چلتے ہوئے نظام سے بغاوت ہمیشہ اس قیمت پر ہوتی ہے کہ اس نظام کے اندر آدمی ہر قسم کے مواقع سے محروم ہو جائے۔ چناں چہ حضرت ابراہیم کے اس فیصلہ نے آپ کی پوری زندگی کو ایثار و قربانی کی زندگی بنا دیا۔ آپ گھر سے بے گھر کئے گئے۔ خاندانی جائداد میں آپ کا کوئی حصہ نہ رہا۔ باپ کی جانشینی کے لئے آپ نااہل قرار پائے۔ وقت کے سماج میں آپ کی حیثیت ایک اجنبی انسان کی ہو گئی۔ اُرکی تقریباً تین لاکھ کی آبادی میں کوئی آپ کا ساتھی نہ رہا۔ وقت کی حکومت آپ کو خطرہ کی نظر سے دیکھنے لگی۔ کیونکہ آپ اس کے پھیلائے ہوئے اس توہماتی عقیدہ کی تردید کرتے تھے کہ سورج چاند خدائی ہستیاں ہیں اور اُن کی طرف سے کسی کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ زمین پر لوگوں کا بادشاہ بن جائے۔ حضرت ابراہیم نے پرسکون زندگی کے اوپر مصیبت کی زندگی کو ترجیح دی۔ انھوں نے عوام کے درمیان مقبولیت کے مقابلہ میں عوام کے درمیان اجنبی بن جانے کو پسند کر لیا۔ وہ عہدہ اور جائداد کو چھوڑ کر خالی ہاتھ ہو جانے پر قانع ہو گئے۔ بادشاہ وقت کے دربار میں معزز کرسی پر بیٹھنے کے بجائے انھوں نے یہ خطرہ مول لیا کہ بادشاہ کی نظر میں وہ معتوب ہو جائیں اور حکومت کی طرف سے ان کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ قوم کے اندر بے عزت کئے گئے۔ پھر آپ کو آگ میں ڈال دیا گیا جس سے اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page