تفکیر، مفکر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۷
ان کی تمام سوچ مبنی بر شکایت یا مبنی بر عداوت سوچ بن جاتی ہے۔ لوگ غلط فہمی کی بنا پر ایسے لوگوں کو مفکر کا مقام دے دیتے ہیں، حالاں کہ یہ لوگ کسی بھی درجے میں مفکر کہے جانے کے مستحق نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا غار حراء میں جانا کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسانی حالات سے الگ ہو کر فطرت کی دنیا میں تدبر کرنا۔ انسان کے بجائے خدائی آیات (signs) میں غور کرنا۔ وقتی حالات سے اوپر اٹھ کر ابدی حقیقتوں میں غور کرنا۔ یہی سوچ درست سوچ ہے۔ جو لوگ اس طرح تدبر اور تفکر کریں، اور اس کے نتیجے میں اعلیٰ حقیقتوں کو دریافت کریں، وہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی معنوں میں مفکر کہے جانے کے مستحق ہیں۔
اس کے برعکس، وہ لوگ جن کی سوچ انسانی حالات میں پھنسی ہوئی ہو، جو انسان کے پیدا کردہ مسائل میں سوچتے ہوں، جن کا ذہن سیاسی حالات اور اخباری رپورٹوں میں الجھا ہوا ہو، ایسے لوگوں کی سوچ وہ سوچ نہیں جس کو قرآن میں تدبر کہا گیا ہے۔
ایسے لوگوں کی تفکیر ہمیشہ رد عمل کی تفکیر ہوتی ہے۔ دونوں قسم کی تفکیر کی پہچان یہ ہے کہ صحیح تفکیر ہمیشہ مثبت تفکیر ہوگی، اس میں کسی کے خلاف نفرت کا شائبہ نہیں پایا جائے گا۔ اس کے برعکس، رد عمل کی تفکیر ہمیشہ منفی تفکیر (negative thinking) ہوتی ہے۔ ایسے مفکرین ہمیشہ ظلم اور سازش کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان اشتعال پیدا ہو، اور پھر یہ اشتعال بڑھتے بڑھتے متشددانہ ٹکراؤ تک پہنچ جائے۔
سچا مفکر اپنی مثبت سوچ کی بنا پر اس قابل ہوتا ہے کہ وہ منفی حالات میں بھی مثبت بات کہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیغمبرانہ مشن کے تیرہویں سال مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے۔ یہ ہجرت ظلم اور تشدد کے درمیان مجبورانہ طور پر ہوئی تھی۔ مگر جب آپ 16 دن کا نہایت مشکل سفر طے کر کے مدینہ پہنچے تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کے سامنے مکہ والوں کی کوئی شکایت نہیں کی۔ اس کے برعکس، آپ نے مدینہ کے لوگوں کو سچائی کا مثبت پیغام دیا۔ ان کو وہ عمل کرنے کے لیے کہا جو ان کو جنت میں پہنچائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues