صبر کا انعام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۷
دعوتی مرکز بنے گا۔ اس کے بعد یہاں سے ایک منصوبہ بند دعوتی عمل شروع ہوگا جو آخر کار پوری آباد دنیا کا احاطہ کر لے گا۔
اسلام کا دعوتی عمل مکہ میں شروع ہوا، پھر مدینہ اس کا مرکز بنا۔ اس کے بعد مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اہل ایمان کی تعداد بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نبوت کے 23 ویں سال 632 عیسوی میں وہ حج ادا کیا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اس حج میں صحابہ کی جو تعداد آپ کے ساتھ تھی وہ ایک لاکھ (100,000) سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس اجتماع کے موقعہ پر پیغمبر اسلام نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اللہ نے مجھ کو سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، تم میرے پیغام کو تمام لوگوں تک پہنچادو۔ پیغمبر اسلام کے اس ارشاد سے اصحاب رسول کو عمل کا ایک نشانہ (target) مل گیا ۔ وہ عرب سے نکل کر مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔
اس کی ایک مثال میں نے ایک سفر کے دوران قبرص (Cyprus) میں دیکھی، جو کہ ایسٹرن میڈی ٹیرین سی میں واقع ہے۔ یہاں سمندر کے ساحلی شہر لارنا کہ (Larnaca) کے مقام پر ایک صحابیہ ام حرام بنت ملحان (وفات 27 یا 28 ھ) کی قبر اب تک موجود ہے۔
حجۃ الوداع کے بعد جو صحابہ عرب سے نکل کر دوسرے ملکوں میں پھیل گیے، وہ گویا صحابہ ان ڈائسپورا (Sahaba in Diaspora) تھے۔ انھوں نے ہر ملک میں پرامن دعوہ ورک کیا۔ اسی طرح جو پاکستانی مسلمان اس وقت ڈائسپو رامیں ہیں ، اگر وہ ہر ملک میں پرامن دعوہ ورک کریں تو ان شاء اللہ ان کو اللہ کی توفیق سے اس جیسا درجہ مل سکتا ہے جو اسلام کے دور اول میں صحابہ ان ڈائسپورا کے لیے مقدر ہوا تھا۔
موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں دعوت کا کام بہت آسان ہو چکا ہے۔ اور وہ ہے پرامن انداز میں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں ڈسٹری بیوٹ کرنا، اور اسی کے ساتھ سپورٹنگ لٹریچر کو لوگوں تک پہنچانا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues