Al-Risala · October 2015 · page 28

دنیا کی حقیقت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۸

دنیا کی حقیقت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: ألا إن الدنيا ملعونۃ ملعون ما فیہا، إلا ذکر اللہ وما والاہ، وعالم، أو متعلم (سنن الترمذی، حدیث نمبر: 2322)۔ دنیا ملعون ہے، اس کے اندر جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ کی یاد کے اور وہ چیز جو اللہ سے قریب کرنے والی ہو، اور جاننے والا، اور سیکھنے والا۔

اس حدیث میں ملعون کا مطلب بے قیمت (valueless) ہونا ہے۔ یہ بات آخرت کے مقابلے میں کہی گئی ہے۔ اسلامی تصور کے مطابق اصل اہمیت آخرت کی ہے۔ اس نسبت سے دنیا کی کامیابی بھی بے قیمت ہے، اور یہاں کی ناکامی بھی بے قیمت۔ دنیا کی کامیابی اور ناکامی میں حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔

دنیا کے کسی واقعے یا کسی تجربے کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ اس کو آخرت کے اعتبار سے جانچا جائے۔ جانچنے کے اس معیار کو ایک لفظ میں معرفت کہا جا سکتا ہے۔ دنیا میں انسان کے ساتھ جو تجربہ گزرے، وہ خواہ مثبت تجربہ ہو یا منفی تجربہ، وہ اس وقت با قیمت ہے جب کہ وہ انسان کی معرفت خدا میں اضافہ کرنے والا ہو۔ جو تجربہ معرفت میں اضافہ نہ کرے، اس کی کوئی قیمت نہیں۔ دنیا کا ہر تجربہ اپنے اندر معرفت کا ایک پہلو رکھتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دنیا کے ہر تجربے میں معرفت کے اس پہلو کو دریافت کرے، وہ مسلسل طور پر اپنے علم الہی کو بڑھاتا رہے۔ دنیا کا ہر واقعہ باعتبار حقیقت اس لئے ہوتا ہے کہ وہ انسان کے اندر معرفت کے سفر کو مسلسل طور پر جاری رکھے۔ دنیا کی زندگی کو جانچنے کا معیار یہ نہیں ہے کہ آدمی نے مادی طور پر کیا کھویا اور کیا پایا، بلکہ یہ ہے کہ اس کے ذہن میں معرفت کا سفر جاری ہے یا نہیں۔ اگر آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا بیدار ہو کہ دنیا کے نشیب و فراز کے باوجود معرفت کا سفر اس کے ذہن میں مثبت طور پر جاری ہے تو ایسا انسان ایک کامیاب انسان ہے۔ حدیث میں عالم کا لفظ معرفت کی دریافت کرنے والے کے معنی میں ہے، اور متعلم وہ ہے جو معرفت کی دریافت میں لگا ہوا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page