Al-Risala · October 2015 · page 29

اللہ کی انگلیوں کے درمیان

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۹

اللہ کی انگلیوں کے درمیان

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن قلوب بني آدم كلها بين إصبعين من أصابع الرحمن، كقلب واحد، يصرفه حيث يشاء (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2654) یعنی بنی آدم کے دل سب کے سب اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں، ایک دل کی طرح، اللہ انسان کے دل کو پھیر دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے۔

اس حدیث میں انسانی زندگی کی ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اللہ جب کسی کوم کو انجام دینا چاہتا ہے تو وہ انسانوں کے دل میں یا کسی ایک انسان کے دل میں وہ بات ڈال دیتا ہے، جو اس وقت مطلوب ہے۔ اس طرح انسان داخلی تحریک کے تحت حرکت میں آجاتا ہے۔ اور پھر وہ کام انجام پا جاتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو محسوس ہو کہ فلاں شخص یا فلاں لوگ اس کے راستے میں رکاوٹ ہیں، تو وہ انسان سے ٹکراؤ نہ کرے، کیوں کہ اصل مسئلہ اللہ کا ہے نہ کہ انسان کا۔ اس کو چاہیے کہ بظاہر انسان کا مسئلہ ہو تب بھی وہ اس کو اللہ سے مانگے، وہ اس کے لیے اللہ سے دعا کرے۔ اگر اللہ چاہے گا تو متعلق انسان کے دل کو پھیر دے گا اور وہ متحرک ہو کر ضروری کام انجام دے دے گا۔ اس حدیث سے یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ اگر معاملہ بظاہر انسان سے ہو تب بھی اس کو اللہ کا معاملہ سمجھنا چاہیے، اور اس کی تکمیل کے لیے اللہ سے مدد مانگنا چاہیے۔ اگر اللہ چاہے گا تو وہ دخل دے کر کام بنادے گا، اور اگر اللہ کی مرضی نہ ہوگی تو کوئی بھی سرگرمی یا ہنگامہ آرائی کام بنانے والی نہیں۔ اللہ کا طریقہ خاموشی کے ساتھ مینج (manage) کرنے کا طریقہ ہے۔ اللہ کا یہ عمل بظاہر دکھائی نہیں دیتا، لیکن وہ ضرور اپنا عمل کرتا ہے۔ اگر انسان کی دعا اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق ہو تو اللہ اس کو ضرور پوری کرے گا۔ بشرطیکہ انسان اپنے غلط کارروائی کے ذریعے معاملے کو بگاڑ نہ دے۔ اس معاملے میں انسان کو صبر کا ثبوت دینا ہوگا۔ جو کہ قبولیت دعا کی لازمی شرط ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page