Al-Risala · November 2015 · page 22

اہلِ توحید اور اہلِ شرک

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۲

سوچے، جس آدمی کے دل میں مشرکانہ خیالات پرورش پائیں، وہ ایک بے حقیقت چیز کو اختیار کرتا ہے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی تردید کرتی ہے۔

شرک کا عقیدہ یا نظریہ آدمی کو فکری غذا دینے والا نہیں۔ وہ اس کو اس روحانی روشنی سے منور کرنے والا نہیں جس کے بغیر آدمی کا پورا وجود ہی اس دنیا میں بے معنی ہو جاتا ہے۔ توحید کی حقیقت کو کسی ایک لفظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ بندے کے ایک ایسے تعلق کا نام ہے جو محبت اور خوف اور توکل کے جذبات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کوئی بندہ اس وقت اللہ کا موحد بنتا ہے جب کہ وہ اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کا محبوب بن جائے۔ اسی پر وہ سب سے زیادہ بھروسہ کرنے لگے۔ اس کو سب سے زیادہ جس بات کا اندیشہ ہو وہ یہ کہ کہیں اس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اس کو خدا کی رحمتوں سے محروم کر دے۔ ان تمام انسانی جذبات کے لئے صرف اللہ کو خاص کر لینے کا نام توحید ہے۔ اس سلسلہ میں یہاں قرآن سے چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں: ”کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو اہل ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو وہ سمجھ لیتے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ “ (البقرہ: 165) الله لا إله إلا هو وعلى فليتوكل المؤمنون (التغابن: 13) یعنی اللہ، اس کے سوا کوئی الہ نہیں، اور ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ إنهم كانوا یُسٰرِعُوْنَ في الْخَــیْرٰتِ ويدعوننا رغبا ورهبا ط وكانوا لنا خٰشِعِیْنَ (الانبیاء: 90) یعنی وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو امید سے اور ڈر سے اور وہ ہمارے آگے عاجزی کرنے والے تھے۔

ان آیات کے مطابق توحید، اعتقادی طور پر یہ ہے کہ آدمی سب سے زیادہ اپنے رب سے محبت کرنے لگے۔ اس کے لئے سب سے زیادہ بھروسہ کی چیز اس کا خدا بن جائے۔ اس کی امیدیں

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page