-(طبعی اور کیمیائی طاقتوں کا اندھا عمل) forces.
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۱
ہے۔ یہ تمام کی تمام دریافتیں صرف درمیانی تشریح ہیں جب کہ مذہب کی جگہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ آخری اور کلی تشریح دریافت کرے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کسی مشین کے اوپر ڈھکن لگا ہوا ہو تو ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ چل رہی ہے۔ اگر ڈھکن اتار دیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ باہر کا چکر کس طرح ایک اور چکر سے چل رہا ہے۔ اور وہ چکر کس طرح دوسرے بہت سے پرزوں سے مل کر حرکت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے سارے پرزوں اور اس کی پوری حرکت کو دیکھ لیں۔ مگر کیا اس علم کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے مشین کے خالق اور اس کے سبب حرکت کا راز بھی معلوم کر لیا۔ کیا کسی مشین کی کارکردگی کو جان لینے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ خود بخود بن گئی ہے اور اپنے آپ چلی جا رہی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کائنات کی کارکردگی کی بعض جھلکیاں دیکھنے سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ یہ سارا کارخانہ اپنے آپ قائم ہوا ہے اور اپنے آپ چلا جا رہا ہے۔ ہیر یز (A. Harris) نے یہی بات کہی تھی جب اس نے ڈارونزم پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
Natural selection may explain the survival of the fittest, but cannot explain the arrival of the fittest. (The Revolt against Reason by A. Lunn, p. 133)
یعنی انتخاب طبیعی کے قانون کا حوالہ صرف زندگی کے بہتر مظاہر باقی رہنے کی توجیہہ کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں بتاتا کہ یہ بہتر زندگیاں خود کیسے وجود میں آئیں۔
اس موضوع پر مزید مطالعہ کے لیے:
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues