شادی کا مسئلہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۲
شادی کا مسئلہ
ایک صاحب نے اپنی پسند کی ایک خاتون سے شادی کی۔ شادی کے کچھ دنوں بعد ان سے میری ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ شادی سے پہلے مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میرا ہوائی جہاز فضا میں اڑ رہا ہے۔ مگر شادی کے بعد ایسا معلوم ہوا جیسے کہ میرا جہاز کریش (crash) ہو گیا، اور میں جہاز کے ساتھ زمین پر گر پڑا۔
یہ ایک شخص کی بات نہیں۔ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کے معاملے میں اکثر لوگوں کا احساس کم و بیش یہی ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ شادی سے پہلے عورت اور مرد دونوں کی دلچسپیاں اپنے خونی رشتوں سے ہوتی ہیں۔ شادی کے بعد ان کو غیر خونی رشتہ داروں سے تعلق بنانا پڑتا ہے۔ بچپن سے شادی کی عمر تک دونوں اپنے خونی رشتوں کے درمیان رہتے ہیں۔ اس بنا پر دونوں کو اپنے خونی رشتوں سے خصوصی لگاؤ ہو جاتا ہے۔ جب کہ شادی کے بعد دونوں کو اپنے غیر خونی رشتہ داروں کے ساتھ نباہ کرنا پڑتا ہے۔ دونوں، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اپنے آپ کو اس فرق کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کر پاتے۔ اس بنا پر طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اور شادی عملاً، پرابلم میرج (problem marriage) بن جاتی ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ خونی رشتوں اور غیر خونی رشتوں کا فرق ختم ہو۔ یہ ایک فطری فرق ہے جو ہمیشہ باقی رہے گا۔ اس مسئلے کا عملی حل صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ دونوں شعوری طور پر یہ جان لیں کہ وہ ایک فطری مسئلہ سے دوچار ہیں ۔ جس کو وہ ختم نہیں کر سکتے۔ دونوں اگر شعوری طور پر اس بات کو جان لیں تو ان کے اندر ایڈ جسمنٹ (adjustment) کا مزاج پیدا ہو گا۔ ان کے اندر یہ سوچ بیدار ہو جائے گی ۔ جس مسئلے کو ہم بدل نہیں سکتے اس کو ہمیں نبھانا چاہیے، اس کے ساتھ ہمیں ایڈ جسٹ کر کے رہنا چاہیے ۔ اس فرق کا ایک مثبت پہلو ہے ۔ یہ فرق آدمی کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) سے بچاتا ہے۔ اس بنا پر آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رکے بغیر جاری رہتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues