شادی کا مسئلہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۳
سوال و جواب سوال میں ایک طالب علم ہوں اور جدید تعلیم حاصل کر رہا ہوں لیکن اسی کے ساتھ دینی معلومات بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ ڈیڑھ سال سے پہلے میں نے آپ کا نام سنا تھا لیکن جن کے ذریعہ آپ کا تعارف ہوا انھوں نے آپ کا کوئی مثبت ذکر نہیں کیا بلکہ دلخراش واقعات سنائے جو کہ میرے لئے باعث تشویش رہے کہ کیا دین اسلام کا داعی اس قسم کی باتیں کہہ سکتا ہے، کیا ایسا ممکن ہے؟ آپ کے حقیقی تعارف کے بغیر میں ہر وقت شش و پنج میں رہتا تھا۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ ان باتوں کی حقیقت کو جاننے کے لیے از خود آپ کی کتابوں کا مطالعہ کروں۔ آخر کار اپنے ایک عزیز کی وساطت سے میں نے آپ کی ایک کتاب ”کاروانِ ملّت“ خریدی۔ کتاب مذکور میں ان سب سوالوں کا جواب تھا جس کی وجہ سے میں پریشان ہو چکا تھا۔ وہ منفی تاثرات جو آپ سے متعلق مجھے بتائے گئے تھے، وہ سب گمراہ کن لگے۔ بعد میں آپ کی کتابوں کا مطالعہ میرے روزمرہ کے شیڈول ایک جزء بن گیا۔ جن کتابوں کا مطالعہ کیا ان میں یہ کتابیں قابلِ ذکر ہیں: کتاب معرفت، عظمتِ اسلام، تعمیرِ انسانیت، دعوت اسلام، The Quran و غیرہ۔ for all Humanity, Creation Plan of God اب میں اس خدا کا شکر کرتا ہوں جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے کہ میرے خدا کی طرف سے یہ سب ممکن ہوا کہ میں روحِ دین کو سمجھنے کی کوشش کروں۔ اس ”عُسْر“ کے دور میں ”یُسْر“ کا ایک موقع مجھے ضرور ملا جس کو میں نے استعمال کیا۔ آپ کی کچھ باتیں جن کی وجہ سے میری زندگی میں بدلاؤ آیا، وہ مفہوم میں کچھ اس طرح ہیں:
غیر مسلم ہمارے دشمن یا حریف نہیں بلکہ وہ ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں ان سے داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنا ہوگا۔
یک طرفہ طور پر دکھ درد کو برداشت کر کے ہی ہم اسلام کا پیغام امن ان تک پہنچا سکتے ہیں۔ دینِ سلامتی کو دینِ قتل نہ بنائیں۔ دینِ امن کو دینِ جنگ و جدال نہ بنائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues