Al-Risala · November 2015 · page 44

شادی کا مسئلہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۴

گمراہ کن فتووں، بے سلسلہ اندازِ بیان، فکری انتشار، دل آزار اور کو مزاحیہ بنانے گمراہ کن نعروں سے مسلمانوں دنیا کے جان، مال اور آبرو کو مباح نہ بنائیں۔ دعوت کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار رہنا، وغیرہ وغیرہ۔

ان جیسی اہم باتوں نے مجھے آپ کی فکر کو اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران میرے ذہن میں بہت سے اشکالات رہے جن کے جوابات جاننا میرے لئے ضروری ہو گیا۔ امید ہے کہ آپ اپنی حد درجہ مشغولیت کے باوجود ذیل کی باتوں میں میری رہنمائی فرمائیں گے: 1۔ اسلامی حکومت کے قیام کے لئے کیا لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔

(defensive war) کہنا کیسے ممکن ہے۔

3- ”نہی عن المنکر“ غیر اسلامی حکومت کے اندر کیسے کیا جائے۔

4۔ دفاعی طریقہ کار سے کیا آج کے دور میں ہم کسی ملک کو زیر کر سکتے ہیں۔ (احمد وانی، کشمیر) جواب کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا، ایک بے حد سنگین بات ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ متعلق شخص کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرے، اور پھر معلومات کے مطابق وہ اپنی رائے بنائے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میرے پاس اتنا وقت نہیں تو اس کو یہ جواب دیا جائے گا کہ پھر آپ کے اوپر فرض ہے کہ آپ ایسے شخص کے بارے میں کوئی رائے نہ بنائیں، بلکہ خاموشی کا طریقہ اختیار کریں۔ آدمی کے اوپر یہ فرض نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کے بارے میں ضرور کوئی رائے بنائے، لیکن اگر اس کو کسی شخص کے بارے میں میں اپنے رائے کا اظہار کرنا ہے تو اس پر فرض ہو جاتا ہے کہ پہلے وہ براہ راست طور پر پوری معلومات حاصل کرے، اور اس کے بعد متعلق شخص کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے۔

جہاں تک مذکورہ سوالات کا تعلق ہے۔ یہ سوالات ہماری کتابوں میں زیرِ بحث آچکے ہیں۔ آپ نے مطالعے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اس کو جاری رکھیے، ان شاء اللہ آپ کو تشفی حاصل ہو جائے گی۔ ة يـت ل پ پ پ ( ن ش ح )

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page