Al-Risala · December 2015 · page 18

کائنات میں خدا کی گواہی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۸

اس کے علاوہ ہوا جو مختلف گیسوں کے مخصوص مرکب کا نام ہے، اس کے بے شمار فائدے ہیں جن کا بیان کسی کتاب میں ممکن نہیں۔

نیوٹن اپنے مشاہدہ اور مطالعہ سے اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ تمام اجسام ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مگر اجسام کیوں ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔ اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ میں اس کی کوئی تو جیہہ پیش نہیں کر سکتا۔

وائٹ ہیڈ (A. N. Whitehead) اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے:

”نیوٹن نے یہ کہہ کر ایک عظیم فلسفیانہ حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ فطرت اگر بے روح فطرت ہے تو وہ ہم کو توجیہہ نہیں دے سکتی۔ ویسے ہی جیسے مردہ آدمی کوئی واقعہ نہیں بتا سکتا۔ تمام عقلی اور منطقی تو جیہات آخری طور پر ایک مقصدیت کا اظہار ہیں۔ جب کہ مردہ کا ئنات میں کسی مقصدیت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ “ (85 .The Age of Analysis, p)

وائٹ ہیڈ کے الفاظ کو آگے بڑھاتے ہوئے میں کہوں گا کہ کائنات اگر کسی صاحب شعور کے زیر انتظام نہیں ہے تو اس کے اندر اتنی معنویت کیوں پائی جاتی ہے۔

زمین اپنے محور پر چوبیس گھنٹے میں ایک چکر پورا کر لیتی ہے۔ یا یوں کہیے کہ وہ اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔ فرض کرو اس کی رفتار دو سو میل فی گھنٹہ ہو جائے اور یہ بالکل ممکن ہے، ایسی صورت میں ہمارے دن اور ہماری راتیں موجودہ دن اور رات کی نسبت سے دس گنا زیادہ لمبے ہو جائیں گے۔ گرمیوں کا سخت سورج ہر دن تمام نباتات کو جلا دے گا۔ اور جو بچے گا وہ لمبی رات کی ٹھنڈک میں پالے کی نذر ہو جائے گا۔ سورج جو اس وقت ہمارے لیے زندگی کا سرچشمہ ہے، اس کی سطح پر بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ کا ٹمپریچر ہے اور زمین سے اس کا فاصلہ تقریباً نو کروڑ تیس لاکھ میل ہے۔ اور یہ فاصلہ حیرت انگیز طور پر مسلسل قائم ہے۔ یہ واقعہ ہمارے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اگر یہ فاصلہ گھٹ جائے، مثلاً سورج نصف کے بقدر قریب آجائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ اس گرمی سے کاغذ جلنے لگے اور اگر موجودہ فاصلہ دگنا ہو جائے تو اتنی ٹھنڈک پیدا ہو کہ زندگی باقی نہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page