کائنات میں خدا کی گواہی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۹
رہے۔ یہی صورت اس وقت پیدا ہوگی جب موجودہ سورج کی جگہ کوئی دوسرا غیر معمولی ستارہ آجائے۔ مثلاً ایک بہت بڑا ستارہ ہے جس کی گرمی ہمارے سورج سے دس ہزار گنا زیادہ ہے۔ اگر وہ سورج کی جگہ ہوتا تو زمین کو آگ کی بھٹی بنا دیتا۔
زمین 23 درجہ کا زاویہ بناتی ہوئی فضا میں جھکی ہوئی ہے ۔ یہ جھکاؤ ہمیں ہمارے موسم دیتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں زمین کا زیادہ سے زیادہ حصہ آباد کاری کے قابل ہو گیا ہے اور مختلف قسم کی نباتات اور پیداوار حاصل ہوتی ہیں۔ اگر زمین اس طرح سے جھکی ہوئی نہ ہوتی تو قطبین پر ہمیشہ اندھیرا چھایا رہتا۔ سمندر کے بخارات شمال اور جنوب کی جانب سفر کرتے، اور زمین پر یا تو برف کے ڈھیر ہوتے یا صحرائی میدان۔ اس طرح کے اور بہت سے اثرات ہوتے جس کے نتیجہ میں بغیر جھکی ہوئی زمین پر زندگی ناممکن ہو جاتی۔
یہ کس قدر نا قابل قیاس بات ہے کہ مادہ نے خود کو اپنے آپ اس قدر موزوں اور مناسب شکل میں منظم کر لیا۔
اگر سائنسدانوں کا قیاس صحیح ہے کہ زمین سورج سے ٹوٹ کر نکلی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدا ء زمین کا درجہ حرارت وہی رہا ہوگا جو سورج کا ہے۔ یعنی بارہ ہزار ڈگری فارن ہائیٹ۔ اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی۔ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا ملنا اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک زمین کا درجہ حرارت گھٹ کر چار ہزار ڈگری پر نہ آجائے۔ اسی موقع پر دونوں گیسوں کے باہم ملنے سے پانی بنا۔ اس کے بعد کروڑوں سال تک زمین کی سطح اور اس کی فضا میں زبردست انقلابات ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ غالباً ایک بلین سال پہلے زمین اپنی موجودہ شکل میں تیار ہوئی۔ زمین کی فضا میں جو گیسیں تھیں ان کا ایک بڑا حصہ خلا میں چلا گیا، ایک حصہ نے پانی کے مرکب کی صورت اختیار کی، ایک حصہ زمین کی تمام چیزوں میں جذب ہو گیا اور ایک حصہ ہوا کی شکل میں ہماری فضا میں باقی رہ گیا جس کا بیشتر جزو آکسیجن اور نائٹروجن ہے۔ یہ ہوا اپنی کثافت کے اعتبار سے زمین کا تقریباً دس لاکھوں حصہ ہے۔ کیوں نہیں ایسا ہوا کہ تمام گیسیں جذب ہو جاتیں ۔ یا کیوں ایسا نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues