Al-Risala · December 2015 · page 20

کائنات میں خدا کی گواہی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۰

ہوا کہ موجودہ نسبت سے ہوا کی مقدار زیادہ ہوتی۔ دونوں صورتوں میں انسان زندہ نہیں ہو سکتا تھا، یا اگر بڑھی ہوئی گیسوں کے ہزاروں پونڈ فی مربع انچ بوجھ کے نیچے زندگی پیدا بھی ہوتی تو یہ ناممکن تھا کہ وہ انسان کی شکل میں نشوونما پاسکے۔

زمین کی دوہری پرت اگر صرف دس فٹ موٹی ہوتی تو ہماری فضا میں آکسیجن کا وجود نہ ہوتا جس کے بغیر حیوانی زندگی ناممکن ہے۔ اسی طرح اگر سمندر کچھ فٹ اور گہرے ہوتے تو وہ کاربن ڈائی آکسائڈ اور آکسیجن کو جذب کر لیتے اور زمین کی سطح پر کسی قسم کی نباتات زندہ نہ رہ سکتیں۔ اگر زمین کے اوپر کی ہوائی فضا موجودہ کی نسبت سے لطیف ہوتی تو شہاب ثاقب جو ہر روز اوسطاً دو کرور کی تعداد میں اوپری فضا میں داخل ہوتے ہیں اور رات کے وقت ہم کو جلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہ زمین کے ہر حصے میں گرتے۔ یہ شہاپیے چھ سے چالیس میل تک فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ وہ زمین کے اوپر ہر آتش پذیر مادے کو جلا دیتے اور سطح زمین کو چھلنی کر دیتے ۔ شہاب ثاقب بندوق کی گولی سے نوے گنا زیادہ رفتار سے آدمی جیسی مخلوق کو محض اپنی گرمی سے ٹکڑے کر دیتی۔ مگر ہوائی کرہ اپنی نہایت موزوں دبازت کی وجہ سے ہم کو اس آتشیں بوچھار سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہوائی کرہ ٹھیک اتنی کثافت رکھتا ہے کہ سورج کی کیمیاوی اہمیت رکھنے والی شعاعیں (actinic rays) اسی موزوں مقدار سے زمین پر پہنچتی ہیں جتنی نباتات کو اپنی زندگی کے لیے ضرورت ہے، جس سے مضر بیکٹیریا مر سکتے ہیں، جس سے وٹامن تیار ہوتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

کمیت کا اس طرح عین ہماری ضرورتوں کے مطابق ہونا کس قدر عجیب ہے۔

زمین کی اوپری فضا چھ گیسوں کا مجموعہ ہے جس میں تقریباً 78 فیصدی نائট্রوجن اور 21 فیصدی آکسیجن ہے۔ باقی گیسیں بہت خفیف تناسب میں پائی جاتی ہیں۔ اس فضا سے زمین کی سطح پر تقریباً پندرہ پونڈ فی مربع انچ کا دباؤ پڑتا ہے جس میں آکسیجن کا حصہ تین پونڈ فی مربع انچ ہے۔ موجودہ آکسیجن کا بقیہ حصہ زمین کی تہوں میں جذب ہے اور وہ دنیا کے تمام پانی کا 8/10 حصہ بناتا ہے۔ آکسیجن تمام خشکی کے جانوروں کے لیے سانس لینے کا ذریعہ ہے اور اس مقصد کے لیے اس کو فضا کے سوا کہیں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page