کائنات میں خدا کی گواہی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۱
اور سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ انتہائی متحرک گیسیں کس طرح آپس میں مرکب ہوئیں اور ٹھیک اس مقدار اور اس تناسب میں فضا کے اندر باقی رہ گئیں جو زندگی کے لیے ضروری تھا۔ مثال کے طور پر آکسیجن اگر 21 فیصدی کے بجائے پچاس فیصدی یا اس سے مقدار میں فضا کا جزو ہوتا تو سطح زمین کی تمام چیزوں میں آتش پذیری کی صلاحیت اتنی بڑھ جاتی کہ ایک درخت میں آگ پکڑتے ہی سارا جنگل بھک سے اڑ جاتا۔ اسی طرح اس کا تناسب گھٹ کر دس فیصدی رہتا تو ممکن ہے زندگی صدیوں کے بعد اس سے ہم آہنگی اختیار کرلیتی۔ مگر انسانی تہذیب موجودہ شکل میں ترقی نہیں کر سکتی تھی۔ اور اگر آزاد آکسیجن بھی بقیہ آکسیجن کی طرح زمین کی چیزوں میں جذب ہو گئی ہوتی تو حیوانی زندگی سرے سے ناممکن ہو جاتی۔
آکسیجن، ہائیڈروجن، کاربن ڈائی آکسائڈ اور کاربن گیسیں الگ الگ اور مختلف شکلوں میں مرکب ہو کر حیات کے اہم ترین عناصر ہیں۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر زندگی قائم ہے۔ اس کا ایک فی ارب بھی امکان نہیں ہے کہ وہ تمام ایک وقت میں کسی ایک سیارہ پر اس مخصوص تناسب کے ساتھ اکٹھا ہو جائیں۔ ایک عالم طبیعیات کے الفاظ میں :
Science has no explanation to offer for the facts, and to say it is accidental is to defy mathematics (p. 33)
یعنی سائنس کے پاس ان حقائق کی توجیہہ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اس کو اتفاق کہنا ریاضیات سے کشتی لڑنے کے ہم معنی ہے۔
ہماری دنیا میں بے شمار ایسے واقعات موجود ہیں جن کی توجیہہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ اس کی تخلیق میں ایک برتر ذہانت کا دخل تسلیم کیا جائے۔
پانی کی مختلف نہایت اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ برف کی کثافت (density) پانی سے کم ہوتی ہے۔ پانی وہ واحد معلوم مادہ ہے جو جمنے کے بعد ہلکا ہو جاتا ہے۔ یہ چیز بقائے حیات کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues