Al-Risala · December 2015 · page 22

کائنات میں خدا کی گواہی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۲

لیے زبردست اہمیت رکھتی ہے۔ اس کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے برف پانی کی سطح پر تیرتا رہتا ہے اور دریاؤں، جھیلوں اور سمندروں کی تہہ میں بیٹھ نہیں جاتا۔ ورنہ آہستہ آہستہ سارا پانی ٹھوس اور منجمد ہو جائے ۔ یہ پانی کی سطح پر ایک ایسی حاجب تہہ بن جاتا ہے کہ اس کے نیچے کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے اوپر ہی اوپر رہتا ہے۔ اس نادر خاصیت کی وجہ سے مچھلیاں اور دیگر آبی جانور زندہ رہتے ہیں۔ اس کے بعد جونہی موسم بہار آتا ہے برف فوراً پگھل جاتا ہے۔ اگر پانی میں یہ خاصیت نہ ہوتی تو خاص طور پر سرد ملکوں کے لوگوں کو بہت بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑتا۔

بیسویں صدی کے آغاز میں جب امریکا میں انڈوتھیا (Endothia) نام کی بیماری شاہ بلوط (Chestnut) کے درختوں پر حملہ آور ہوئی اور تیزی سے پھیلی تو بہت سے لوگوں نے جنگل کی چھتری میں شگاف دیکھ کر کہا کہ "یہ شگاف اب پر نہیں ہوں گے۔ " امریکی شاہ بلوط کی بالا دستی کو ابھی تک کسی اور قسم کے اشجار نے نہیں چھینا تھا۔ اونچے درجے کی دیر پا عمارتی لکڑی اور اس طرح کے دوسرے فوائد اس کے لیے خاص تھے۔ یہاں تک کہ 1900ء میں ایشیا سے انڈوتھیا نام کی بیماری کا ورود ہوا۔ اس وقت تک یہ جنگلات کا بادشاہ خیال کیا جاتا تھا۔ مگر اب جنگلات میں یہ درخت ناپید ہو چکا ہے۔ لیکن جنگلات کے یہ شگاف جلد ہی پر ہو گئے۔ کچھ دوسرے درخت (Tulip Trees)

اپنی نشوونما کے لیے شاید اُنھیں شگافوں کا انتظار کر رہے تھے۔ شگاف پیدا ہونے سے پہلے تک یہ درخت جنگلات کا معمولی جزو تھے اور شاذ ہی بڑھتے اور پھولتے تھے۔ لیکن اب شاہ بلوط کی عدم موجودگی کا کسی کو احساس تک نہیں ہوتا۔ کیونکہ اب دوسری قسم کے درخت پوری طرح ان کی جگہ لے چکے ہیں۔ یہ دوسرے درخت سال بھر میں ایک انچ محیط میں اور چھ فٹ لمبائی میں بڑھتے ہیں۔ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھنے کے علاوہ بہترین لکڑی جو بالخصوص باریک تہوں کے کام آسکتی ہے، ان سے حاصل کی جاتی ہے۔ اسی صدی کا واقعہ ہے۔ ناگ پھنی کی ایک قسم آسٹریلیا میں کھیتوں کی باڑھ قائم کرنے کے لیے بوئی گئی ہے۔ آسٹریلیا میں اس ناگ پھنی کا کوئی دشمن کیڑا نہیں تھا۔ چنانچہ وہ بہت تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی۔ یہاں تک کہ انگلینڈ کے برابر رقبہ پر چھا گئی۔ وہ شہروں اور دیہاتوں میں آبادی

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page