Al-Risala · December 2015 · page 23

کائنات میں خدا کی گواہی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۳

کے اندر گھس گئی، کھیتوں کو ویران کر دیا۔ اور زراعت کو ناممکن بنا دیا۔ کوئی تدبیر بھی اس کے خلاف کار گر ثابت نہیں ہوتی تھی۔ ناگ پھنی آسٹریلیا کے اوپر ایک ایسی فوج کی طرح مسلط تھی جس کا اس کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا۔ بالآخر ماہرین حشرات الارض دنیا بھر میں اس کا علاج تلاش کرنے کے لیے نکلے۔ یہاں تک کہ ان کی رسائی ایک کیڑے تک ہوئی جو صرف ناگ پھنی کھا کر زندہ رہتا تھا۔ اس کے سوا اس کی کوئی خوراک نہیں تھی۔ وہ بہت تیزی سے اپنی نسل بڑھاتا تھا اور آسٹریلیا میں اس کا کوئی دشمن نہیں تھا۔ اسی کیڑے نے آسٹریلیا میں ناگ پھنی کی ناقابل تسخیر فوج پر قابو پالیا اور اب وہاں سے اس مصیبت کا خاتمہ ہو گیا۔

قدرت کے نظام میں یہ ضبط و توازن (checks and balances) کی عظیم تدبیریں کیا کسی شعوری منصوبے کے بغیر خود بخود وجود میں آ جاتی ہیں۔

کائنات میں حیرت انگیز طور پر ریاضیاتی قطعیت پائی جاتی ہے۔ یہ جامد بے شعور مادہ جو ہمارے سامنے ہے، اس کا عمل غیر منظم اور بے ترتیب نہیں بلکہ وہ متعین قوانین کا پابند ہے۔ ”پانی“ کا لفظ خواہ دنیا کے جس خطہ میں اور جس وقت بھی بولا جائے، اس کا ایک ہی مطلب ہوگا—ایک ایسا مرکب جس میں 11.1 فی صد ہائیڈروجن اور 88.9 فی صد آکسیجن۔ ایک سائنسداں جب تجربہ گاہ میں داخل ہو کر پانی سے بھرے ہوئے ایک پیالے کو گرم کرتا ہے تو وہ تھرمامیٹر کے بغیر یہ بتا سکتا ہے کہ پانی کا نقطۂ جوش 100 سینٹی گریڈ ہے جب تک ہوا کا دباؤ (atmospheric pressure) 760 ایم۔ایم رہے۔ اگر ہوا کا دباؤ اس سے کم ہو تو اس حرارت کو لانے کے لیے کم طاقت درکار ہوگی جو پانی کے سالمات کو توڑ کر بخارات کی شکل دیتی ہے۔ اس طرح نقطۂ جوش سو درجے سے کم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر ہوا کا دباؤ 760 ایم۔ ایم سے زیادہ ہو تو نقطۂ جوش بھی اسی لحاظ سے زیادہ ہو جائے گا۔ یہ تجربہ اتنی بار آزمایا گیا ہے کہ اس کو یقینی طور پر پہلے سے بتایا جا سکتا ہے کہ پانی کا نقطۂ جوش کیا ہے۔ اگر مادہ اور توانائی کے عمل میں یہ نظم اور ضابطہ نہ ہوتا تو سائنسی تحقیقات اور ایجادات کے لیے کوئی بنیاد نہ ہوتی۔ کیونکہ پھر اس دنیا میں محض اتفاقات کی حکمرانی ہوتی اور علمائے طبیعیات کے لیے یہ بتانا ممکن نہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page