کائنات میں خدا کی گواہی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۴
رہتا کہ فلاں حالت میں فلاں طریق عمل کے دہرانے سے فلاں نتیجہ پیدا ہو گا۔ کیمیا کے میدان میں نو وارد طالب علم سب سے پہلے جس چیز کا مشاہدہ کرتا ہے وہ عناصر میں نظم اور دوریت ہے۔ سو سال پہلے ایک رواسی ماہر کیمیا منڈیلیف (Mendeleev) نے جوہری قدر کے لحاظ سے مختلف کیمیائی عناصر کو ترتیب دیا تھا جس کو دوری نقشہ (periodic chart) کہا جاتا ہے۔ اس وقت تک موجودہ تمام عناصر دریافت نہیں ہوئے تھے اس لیے اس کے نقشہ میں بہت سے عناصر کے خانے خالی تھے جو عین اندازے کے مطابق بعد کو پر ہوگئے، ان نقشوں میں سارے عناصر جو ہری نمبروں کے تحت اپنے اپنے مخصوص گروپوں میں درج کیے جاتے ہیں ۔ جوہری نمبر سے مراد مثبت برقیوں (protons) کی وہ تعداد ہے جو ایٹم کے مرکز میں موجود ہوتی ہے۔ یہی تعداد ایک عنصر کے ایٹم اور دوسرے عنصر کے ایٹم میں فرق پیدا کر دیتی ہے۔ ہائیڈروجن جو سب سے سادہ عنصر ہے، اس کے ایٹم کے مرکز میں ایک پروٹون ہوتا ہے۔ ہیلیم میں دو اور لیتھیم میں تین مختلف عناصر کی جدول تیار کرنا سی لیے ممکن ہو سکا ہے کہ ان میں حیرت انگیز طور پر ایک ریاضیاتی اصول کار فرما ہے۔ نظم و ترتیب کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ عنصر نمبر 101 کی شناخت محض اس کے 17 پروٹونوں کے مطالعہ سے کر لی گئی ۔ قدرت کی اس حیرت انگیز تنظیم کو ہم دوری اتفاق (periodic chance) نہیں کہتے بلکہ اس کو دوری ضابطہ (periodic law) کہتے ہیں۔ مگر نقشہ اور ضابطہ جو یقینی طور پر نظم اور منصوبہ ساز کا تقاضا کرتے ہیں، اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اگر خدا کو نہ مانے تو وہ خود اپنی تحقیق کے ایک لازمی نتیجہ کا انکار کرے گی۔
’’ 11 اگست 1999ء میں ایک سورج گرہن واقعہ ہوگا جو کار نوال (Cornwall) میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا‘‘۔ یہ محض ایک قیاسی پیشین گوئی نہیں ہے بلکہ علمائے فلکیات یقین رکھتے ہیں کہ نظام شمسی کے موجودہ گردشی نظام کے تحت اس گہن کا پیش آنا یقینی ہے۔ جب ہم آسمان میں نظر ڈالتے ہیں تو ہم لا تعداد ستاروں کو ایک نظام میں منسلک دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ ان گنت صدیوں سے اس فضائے بسیط میں جو عظیم گیندیں معلق ہیں وہ ایک ہی معین راستے پر گردش کرتی چلی جا رہی ہیں۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues