Mob. 09308477841, 09852208744
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۵
اپنے مداروں میں اس نظم کے ساتھ آتی اور جاتی ہیں کہ ان کے جائے وقوع اور ان کے درمیان ہونے والے واقعات کا صدیوں پیشتر بالکل صحیح طور پر اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ پانی کے ایک حقیر قطرے سے لے کر فضائے بسیط میں پھیلے ہوئے دور دراز ستاروں تک ایک فقید المثال نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ ان کے عمل میں اس درجہ یکسانیت ہے کہ ہم اس بنیاد پر قوانین مرتب کرتے ہیں۔ نیوٹن کا نظریہ کشش فلکیاتی کروں کی گردش کی توجیہہ کرتاہے۔ اس کے نتیجے میں جے سی ایڈمس (J. C. Adams) اور لا ویرے (U. Le Verrier) کو وہ بنیادی جس سے وہ دیکھے بغیر ایک ایسے سیارے کے وجود کی پیشین گوئی کر سکیں جو اس وقت تک نامعلوم تھا۔ چنانچہ ستمبر 1846ء کی ایک رات کو جب برلن آبزرویٹری کی دوربین کا رخ آسمان میں ان کے بتائے ہوئے مقام کی طرف کیا گیا تو فی الواقع نظر آیا کہ ایسا ایک سیارہ نظام شمسی میں موجود ہے جس کو اب ہم نیپچون (Neptune) کے نام سے جانتے ہیں۔
کس قدر نا قابل قیاس بات ہے کہ کائنات میں یہ ریاضیاتی قطعیت خود بخود قائم ہو گئی ہے۔ کراچی (پاکستان) میں انٹر نیشنل بک فیر 15 .Nov 12 سے 15 .Nov 16، ایکسپو سنٹر، یونیورسٹی روڈ میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں Center for Peace & Spirituality کے سٹال سے مولانا وحید الدین خاں کی تمام کتابیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ سی پی ایس بہار ۔ جھارکھنڈ کی ٹیم 13 دسمبر 2015 کو در بھنگہ کا دورہ کرے گی ۔ اس دورے کا مقصد دعوتی مواقع کو استعمال کرنا اور قارئینِ الرسالہ کو منظم کرنا ہے۔ یہ ٹیم دسمبر کے آخری ہفتہ میں کشن گنج کا بھی دورہ کرے گی۔ رابطہ فرمائیں: A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)
Mob. 09308477841, 09852208744
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues