Al-Risala · December 2015 · page 31

جنگ، اسلام میں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۱

کے زمانے میں کر چکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ختم فتنہ کی جنگ ایک مخصوص حالت کی جنگ تھی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شروع ہوئی۔ اور اس کے نتیجے میں مکہ سے مشرکین کا سماجی اور سیاسی غلبہ ختم ہو گیا۔ یہ جنگ صحابہ کے زمانے میں مزید جاری رہی۔ یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ تکمیل تک پہنچ گئی۔ جب کہ ایک طرف ساسانی سلطنت (Sassanid Empire) اور دوسری طرف بازنطینی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد عملاً دنیا میں مذہبی جبر کی جگہ مذہبی آزادی کا دور شروع ہو گیا۔ یہ عمل (process) مزید جاری رہا۔ یہاں تک کہ یورپ میں جمہوری انقلاب آنے کے بعد وہ آخری طور پر مکمل ہو گیا۔ اب نہ وہ فتنہ ہے، اور نہ اس فتنے کے نام پر کسی جنگ کی ضرورت۔ 2۔ اس سلسلے میں قرآن کی دوسری آیت کے الفاظ یہ ہیں: فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ (9:7) یعنی جب تک وہ تم سے سیدھے (پرامن) رہیں تم بھی ان سے سیدھے (پرامن رہو۔ قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں دو قوموں کے درمیان کی اس صورتِ حال کا ذکر ہے جس کو صلح و جنگ کا معاملہ کہا جاتا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ دو قوموں کے درمیان صلح اور جنگ کا معاملہ بین اقوامی قانون کے تحت فیصل ہوگا، بین اقوامی معاہدات کے ذریعے جو اصول طے ہو جائیں، وہی اصول اہلِ اسلام کے لیے بھی قابلِ قبول ہوں گے۔ یعنی بین اقوامی قانون کے مطابق صلح اور بین اقوامی قانون کے مطابق جنگ۔ صلح و جنگ کے معاملے میں مسلمانوں کا کوئی الگ اصول نہ ہوگا۔ اس کو مزید تعین کی زبان میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ موجودہ زمانے میں اقوام متحدہ (United Nations) کو تمام قوموں نے باقاعدہ طور پر قبول کر لیا ہے۔ مسلمان بھی اس تنظیم کو دوسری قوموں کی طرح قبول کریں گے۔ وہ دوسری قوموں سے صلح و جنگ کے معاملات کو اقوام متحدہ کے تحت طے کریں گے نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔ حقیقت یہ ہے کہ قتال فتنہ کی آیت (8:39) میں قتالِ خاص کا ذکر ہے۔ اور اس کے مقابلے میں دوسری آیت (9:7) میں حالتِ عام کا ذکر ہے۔ حالتِ خاص کا دور ختم ہو چکا، اب ہم صرف حالت عام کے دور میں ہیں۔ حالتِ عام کے زمانے میں اہلِ اسلام بھی دوسری قوموں کی طرح عالمی

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page