جہاد یا قبائلی کلچر کی توسیع
الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۸
جہاد یا قبائلی کلچر کی توسیع
اسلام کے ابتدائی دور میں سن آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہوا۔ اس کے بعد عرب کے قبائل افواج (النصر: 1) کی صورت میں اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے۔ افواج سے مراد عمومی قبول اسلام (mass conversion) ہے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تاریخی بات ان الفاظ میں فرمائی تھی: عن جابر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الناس دخلوا في دين الله افواجا وسیخرجون منه افواجاً (مسند احمد: 14696) جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے، اور عن قریب وہ فوج در فوج اس سے نکل جائیں گے۔
جابر بن عبد اللہ مشہور صحابی ہیں۔ ان کی وفات 78ھ میں ہوئی۔ انھوں نے جنگ صفین (37ھ) کا زمانہ دیکھا تھا، جب کہ مسلمان علی اور معاویہ کی قیادت میں دو گروہوں میں بٹ گئے تھے، اور آپس میں خون ریز جنگ کی تھی۔ یہ مسلم تاریخ کی پہلی سول وار (civil war) تھی۔ اس جنگ میں دونوں فریق کے جو لوگ قتل ہوئے، ان کی مجموعی تعداد تقریباً ستر ہزار تھی (البدایۃ والنہایۃ، ابن کثیر، 7/274)۔
مذکورہ حدیث کے راوی جابر بن عبد اللہ ہیں۔ جابر بن عبد اللہ کے ایک پڑوسی کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے واپس آیا، اس وقت جابر بن عبد اللہ مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ انھوں نے امت کے افتراق اور باہمی جنگ کا ذکر کیا۔ اس پر جابر بن عبد اللہ رو پڑے، انھوں نے روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث بیان کی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کے اندر افتراق اور بگاڑ کے واقعات کیوں پیش آئے۔ اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ لوگوں کی نیتوں میں فساد آ گیا تھا، یا ان کے اندر اخلاص ختم ہو گیا تھا۔ اس صورت حال کا واحد سبب وہ ظاہر ہے، جس کو کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues