اختلاط کی اہمیت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۷
اختلاط کی اہمیت
ایک حدیث رسول مسند احمد، سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ، الادب المفرد، وغیرہ کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: المؤمن الذي يخالط الناس ويصبر على أذاهم، أعظم أجرامن الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على أذاهم ۔ (حدیث نمبر 23098) یعنی وہ مومن جو لوگوں سے میل جول رکھتا ہے، اور ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، اس کا اجر اس سے زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا، اور ان کی اذیت پر صبر نہیں کرتا۔ اس حدیث میں اختلاط کا مطلب میل جول (interaction) ہے۔ ایک شارح حدیث نے اس کی شرح کرتے ہوئے کہا کہ إن الخلطة أفضل من العزلة (تحفة الاحوذی 7 / 177) یعنی تنہائی کی زندگی کے مقابلے میں میل جول کی زندگی زیادہ افضل ہے۔ اختلاط کی زندگی کا افضل ہونا صرف اخلاق کے معنی میں نہیں ہے۔ اس سے زیادہ وہ شخصیت کی تعمیر (personality development) کے معنی میں ہے۔
یہ فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ انسان کے اندر سنجیدگی ہو۔ اس کے اندر سوچنے اور نصیحت لینے کا مزاج ہو۔ تو ہر اختلاط اس کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا۔ لوگوں سے انٹرایکشن کے درمیان اس کو طرح طرح کے تجربات پیش آتے ہیں۔ وہ لوگوں سے نئی نئی باتیں سیکھتا ہے۔ اختلاط کے دوران اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی فکری اصلاح کرے۔ اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ لوگوں کی معلومات سے اپنے علم میں اضافہ کرے۔ اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی فکری محدودیت کو عالمی فکر میں تبدیل کرسکے۔ انٹرایکشن کا یہ فائدہ اس انسان کو ملتا ہے جس کے اندر سیکھنے کا مزاج (spirit of learning) ہو۔ جو باتوں کو غیر متعصبانہ انداز میں دیکھ سکے۔ وہ جو کچھ سنے اس کو آبجیکٹیو (objective) انداز میں میں لے، نہ کہ سبجیکٹیو (subjective) انداز میں۔ اس کے اندر اعتراف کا مادہ ہو۔ وہ کسی رائے کو سچائی کے اعتبار سے دیکھے، نہ یہ کہ وہ کس شخص کی رائے ہے۔ وہ پورے معنوں میں نفس مطمئنہ (complex-free soul) کی حیثیت رکھتا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues