رحمت الہی سے محرومی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۸
رحمت الہی سے محرومی
صحیح البخاری میں ایک روایت ترجمہ باب : خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهو لا يشعر کے تحت نقل کی گئی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں : عن عبادة بن الصامت، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج يخبر بليلة القدر، فتلاحى رجلان من المسلمين فقال : إني خرجت لأخبركم بليلة القدر، وإنه تلاحى فلان وفلان، فرفعت ۔ (حدیث نمبر 49) عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے کہ شب قدر کے بارے میں بتادیں، پھر مسلمانوں میں سے دو شخص آپس میں جھگڑنے لگے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نکلا تا کہ میں تم کو شب قدر کے بارے میں بتادوں، پھر فلاں اور فلاں آپس میں جھگڑنے لگے، تو اس کا علم اٹھا لیا گیا۔ یہ حدیث صرف شب قدر کے بارے میں نہیں ہے بلکہ وہ مسلمانوں کے بارے میں اللہ کی ایک سنت کو بتا رہی ہے۔ وہ سنت یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے درمیان باہمی اتحاد ہو تو ان پر اللہ کی رحمت اور نصرت نازل ہوگی۔ اس کی بنا پر وہ اپنی زندگی میں کامیاب رہیں گے۔ لیکن اگر مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑا کرنے میں مبتلا ہوں تو وہ رحمت بھی ان سے واپس چلی جائے گی جو ان کے لیے اللہ کی طرف سے مقدر کی گئی تھی۔
جھگڑا کیا ہے۔ وہ ایک سلسلہ واقعات کا نام ہے۔ پہلے رائے کا اختلاف پیدا ہوتا ہے، پھر وہ باہمی نفرت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے درمیان جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر مزید بڑھ کر یہ ہوتا ہے کہ لوگ آپس میں باقاعدہ لڑنے لگتے ہیں۔ جب مسلمانوں کا حال یہ ہو جائے تو وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہو جاتے ہیں، نہ کہ اللہ کی رحمت کے مستحق۔
رائے کا اختلاف ایک فطری چیز ہے، لیکن رائے کے اختلاف کو قطع تعلق اور عناد تک پہنچادینا، بلا شبہ ایک برائی ہے۔ وہ نہ صرف لوگوں کے درمیان باہمی اتحاد کو ختم کردیتی ہے، بلکہ اس کے بعد مثبت دینی کام کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues