فساد فی الارض
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۹
فساد فی الارض
قرآن میں اہل نفاق کا ذکر کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ﴾ (2:11) یعنی اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
قرآن کی اس آیت کا تعلق ظلم و تشدد جیسی چیزوں سے نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ آیت مکہ میں نازل ہوتی، جہاں عملاً ایسا کیا جارہا تھا۔ یہ آیت مدینہ میں اتری، اور اس کو اہل نفاق کا عمل بتایا گیا۔ جیسا کہ معلوم ہے مدینہ کے منافقین ظلم اور تشدد جیسی کارروائی نہیں کر رہے تھے۔ تو اس آیت میں وہی فعل مراد لیا جائے گا جو مدینہ کے منافقین عملاً کر رہے تھے۔
اس پہلو سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں جس چیز کو فساد فی الارض بتایا گیا ہے اس سے مراد اہل نفاق کی وہ منفی کارروائیاں ہیں جو توحید کی تحریک کے خلاف وہ مدینہ میں چلا رہے تھے۔ وہ لوگ بظاہر مسلمان تھے لیکن وہ اپنے ایمان میں مخلص نہ تھے۔ ان کو مسلمانوں سے بغض تھا، لیکن وہ دنیوی مفاد کے تحت مسلمانوں سے وابستہ ہو گئے تھے۔ ان کا اصل مقصود دنیوی مفاد تھا نہ کہ اخروی مفاد۔ جب انھوں نے دیکھا کہ مخلص مسلمان اسلام میں ترقی کر رہے ہیں تو ان کو مخلص اہل ایمان سے حسد ہو گیا۔ وہ ان کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ مخلص اہل ایمان کے کام کو کمتر کر کے دکھانے لگے۔ وہ ایسی باتیں کرنے لگے جس سے مخلص اہل ایمان کی تصویر (image) لوگوں کی نظروں میں خراب ہو جائے۔ اسی منافقانہ روش کو قرآن میں زمین میں فساد پھیلانا کہا گیا ہے۔ وہ سازشی انداز میں اہل ایمان کے خلاف معاندانہ کارروائی کرتے تھے۔ یعنی ان کو بدنام کرنا، ان کی تصویر بگاڑنا، ان کے کام کو گھٹا کر پیش کرنا، ان کے خلاف ایسی باتیں کہنا جس سے ان کے اندر آپسی نفرت پھیل جائے، لوگ ان کی طرف متوجہ ہونا چھوڑ دیں۔ اہل انکار کا طریقہ کھلی دشمنی ہوتا ہے، اور اہل نفاق کا طریقہ چھپی دشمنی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues