جہاد یا قبائلی کلچر کی توسیع
الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۹
کنڈیشننگ وہی چیز ہے، جس کو عرب کے ایک قدیم مقولہ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا تھا: من شب علی شیء شاب علیہ (منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري : صفحه 60) یعنی آدمی جس چیز پر جوان ہوتا ہے، اسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جوانی کی عمر میں جس ماحول میں آدمی کی کنڈیشننگ ہوتی ہے، اس کا اثر اس کی زندگی میں آخری وقت تک باقی رہتا ہے۔
یہ حقیقت ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: کل مولود یولد علی الفطرة فأبواه يهودانه، أو ينصرانه، أو يمجسانه (صحیح البخاري: 1385) یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
مسلم نسلوں میں بعد کے زمانے میں جوبگاڑ پیداہوا، ان سب کا اصل سبب یہی کنڈیشننگ کا معاملہ تھا۔ عمومی قبولیت اسلام (mass conversion) کی بنا پر لوگ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔ دورِ پریس سے پہلے تعلیم و تربیت کا نظام موجود نہ تھا۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ لوگ کلمہ پڑھ کر اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے، لیکن تربیتی نظام نہ ہونے کی بنا پر ان کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) نہ ہوسکی۔ وہ مذہب کے اعتبار سے مسلم تھے، لیکن کلچر کے اعتبار سے وہ قدیم کلچرل روایات میں بدستور جیتے رہے۔ کثرت سے احادیث میں یہ پیشگی خبر دی گئی تھی کہ جلد ہی لوگوں کے اندر بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔ اس بگاڑ کا سبب عام طور پر فتنہ کو سمجھا جاتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا سبب کنڈیشنگ کا معاملہ تھا، یعنی اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے زیر اثر کام کرنا۔
مثال کے طور پر ایک حدیث رسول مختلف کتب حدیث میں آئی ہے۔ یہ حدیث رسول تنبیہ (warning) کی زبان میں ہے۔ اُس کے الفاظ یہ ہیں: أفلا ترجعوا بعدي ضلالاً، يضرب بعضکم رقاب بعض (صحیح البخاري: 4406) یعنی آگاہ، میرے بعد تم لوگ لوٹ کر گمراہ نہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues