جہاد یا قبائلی کلچر کی توسیع
الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۰
ہو جانا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
اس حدیث رسول میں ترجعوا کا لفظ ہے، یعنی سابقہ حالت کی طرف لوٹ جانا۔ یہ سابقہ حالت وہی تھی، جس سے نکل کر وہ اسلام میں داخل ہوئے تھے، یعنی قبائلی کلچر (tribal culture) اسلام سے پہلے یہ لوگ قبائل کلچر میں جیتے تھے۔ قبائلی کلچر میں ہر آدمی کے پاس تلوار ہوتی تھی۔ قبائلی کلچر میں پرامن تبادلہ خیال (peaceful discussion) کا طریقہ رائج نہ تھا۔ وہ لوگ اختلاف کا حل صرف یہ سمجھتے تھے کہ لڑ کر اس کو طے کیا جائے۔
مزید یہ کہ لڑائی سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا تھا۔ کیوں کہ ہارنے والے فریق کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا تھا۔ اس طرح عملاً قبائلی دور مسلسل جنگ (chain war) کا دور بن گیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم لوگوں کے اندر فطری طور پر اختلاف پیدا ہوں گے، مگر اس کو پرامن گفتگو کے ذریعہ حل کرنا، ایسا ہرگز نہ کرنا کہ قبائلی کنڈیشننگ (tribal conditioning) کی بنا پر اختلاف کو عذر بنا کر دوبارہ تم آپس میں لڑنا شروع کر دو۔
تاریخ بتاتی ہے کہ اہل ایمان کی کنڈیشننگ باقی رہی، کیوں کہ اس زمانہ میں اس کی ڈی کنڈیشننگ کا کوئی نظام موجود نہ تھا۔ چنانچہ نہ صرف باہمی جنگ بلکہ ہر اعتبار سے قدیم روایات مسلمانوں کے اندر واپس آگئیں۔
قدیم روایات کی یہ واپسی ان مسلمانوں کے ذریعہ ہوئی، جن کا حال یہ تھا کہ اقرار کلمہ کے اعتبار سے وہ مسلمان ہو کر مسلم سماج میں داخل ہو چکے تھے، لیکن کنڈیشننگ کی بنا پر ان کا مائنڈ سیٹ یا قرآن کے الفاظ میں شاکلہ (17:24) اب بھی وہی تھا، جو قبل اسلام زمانے میں ان کے اندر بنا تھا۔ یہ معاملہ صرف عرب کے نومسلموں کا نہ تھا، بلکہ ان تمام نومسلموں کا تھا، جو بعد کے زمانے میں مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے رہے۔
ماضی کی طرف رجوع (return to past) کا یہ معاملہ مختلف اعتبار سے پیش آیا۔ مثلاً اسی بنا پر ایسا ہوا کہ خلفاء اربعہ کے بعد مسلمانوں میں خاندانی سلطنت (dynasty) کا دور آگیا، جو پھر کبھی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues