Al-Risala · February 2015 · page 37

Grand Mosque of Granada

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۷

نماز ادا کی۔ سینٹر میں کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی جو اسپین میں دعوتی کام کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں روزانہ تقریباً 500 زائرین آتے ہیں۔ یہاں سے الحمراء کا منظر نہایت دلکش نظر آتا ہے۔ یہاں ایک مکتبہ (bookshop) بھی ہے۔ اس میں تعارفِ اسلام کے موضوع پر کتابیں موجود ہیں۔ یہاں سینٹر کی مسجد کے ذمہ داران سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان کو اپنے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹ What is Islam کا اسپینش ایڈیشن (?Qué es el Islam) دیا۔ ان لوگوں نے کہا کہ اگر آپ ہمیں قرآن کے تراجم اور کتابیں بھیجیں گے تو ہم ان کو یہاں سیاحوں (tourists) کے درمیان پھیلائیں گے۔

غرناطہ سے فارغ ہو کر میں قرطبہ کے لیے روانہ ہوا۔ یہ ٹرین کے ذریعے تقریباً دو گھنٹے کا سفر تھا۔ قرطبہ (Cordoba) اسپین کا ایک قدیم شہر ہے۔ 711 عیسوی میں مسلمانوں نے اس کو فتح کیا اور 756 میں اس کو اپنا دار السلطنت بنایا۔ اس کے بعد پندرھویں صدی عیسوی تک وہ مسلم اسپین کا دارالسلطنت بنا رہا۔ دسویں صدی میں قرطبہ یورپ کا سب سے بڑا شہر تھا۔ اس کی حیثیت ایک قسم کے عالمی کلچرل سنٹر کی ہوگئی تھی۔

قرطبہ میں اسپین کے مسلم دورِ حکومت (1492-711) کی بہت سی یادگاریں پائی جاتی ہیں۔ ان میں مسجد قرطبہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ مسجد بارہ ہزار مربع میٹر کے رقبے میں واقع ہے۔ اس میں تقریباً بارہ سو ستون ہیں۔ اب اس کو چرچ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

مسجد قرطبہ کے وسیع صحن میں ہر طرف خوب صورت فوارے جاری تھے اور مختلف قسم کے درخت لگے ہوئے تھے۔ ان درختوں میں پھل لٹکے ہوئے تھے۔

مسلم اقتدار کے خاتمہ کے بعد مسجد قرطبہ کو عیسائیوں نے چرچ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس معاملے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ اسپین میں ایک مسیحی پیشوا سینٹ ونسنٹ (Saint Vincent Ferrer) گزرا ہے۔ مسیحیوں نے اس کے نام پر قرطبہ میں دریا کے کنارے ایک چرچ تعمیر کیا تھا۔ اس علاقہ پر سیاسی قبضہ کے بعد مسلمانوں نے عین اسی چرچ کی جگہ مسجد بنا دی۔ اس طرح اس مسجد کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page