الجامعة الإسلامية الدولية ابن رشد - الأندلس
الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۸
غیر ضروری طور پر نزاع کی حالت قائم ہوگئی۔ کہا جاتا ہے کہ بعد کو 786 عیسوی میں سلطان عبدالرحمن الداخل نے عیسائیوں کو راضی کر کے اس جگہ کو خرید لیا اور وہاں مزید توسیع کے ساتھ عظیم مسجد قرطبہ کی تعمیر کی۔ اس تعمیر پر دو سال میں 80 ہزار دینار خرچ ہوئے۔ عیسائیوں کو جب دوبارہ سیاسی غلبہ ملا تو انھوں نے مسجد کے تو سیعی حصہ کو چھوڑ دیا۔ تاہم سینٹ ونسنٹ چرچ کی ابتدائی جگہ کو دوبارہ انھوں نے گرجا میں تبدیل کر دیا۔
مسجد قرطبہ کے قریب ایک اسلامی سینٹر تھا۔ اس میں مسجد کے علاوہ ایک ادارہ بھی قائم ہے۔ میں اس ادارے میں گیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت یہاں ترکی حکومت کے تعاون سے ریسٹوریشن (restoration) کا کام چل رہا ہے، اس وجہ سے یہ ادارہ فی الحال بند ہے۔ یہ ایک بڑا ادارہ تھا جس میں مسجد اور اسلامک سینٹر قائم ہے۔ اس ادارے کا پورا نام یہ ہے:
مسجد الأندلسيين (Mezquita De Los Andaluces)
الجامعة الإسلامية الدولية ابن رشد - الأندلس
(Universidad Islamica Internacional Averroes De Al-Andalus)
قرطبہ میں ایک اور اسلامی سینٹر ہے۔ اس سینٹر کو اسپین کے ایک مسلمان مسٹر محمد حنیف (Hanif Esccudero Uribe) کے والد نے تقریباً 25 سال پہلے قائم کیا تھا۔ اس ادارے میں کئی کام ہوتے ہیں ۔ خاص طور پر یہاں کھانے پینے کی چیزوں کے لئے حلال سرٹیفکیشن(Halal Certification) جاری کیا جاتا ہے۔ میں اس ادارے میں گیا تو یہاں اسٹاف کے ایک ممبر مسٹر سعید (Said Bouzraal) سے ملاقات ہوئی۔ مسٹر سعید اس ادارے کے اشاعتی شعبے میں ایڈیٹر ہیں۔ یہاں سے اسپینش زبان میں کئی اہم کتابیں چھپی ہیں۔ یہاں سے معروف مترجم اور مفسر محمد اسد کا اسپینش ترجمہ قرآن بھی شائع ہوا ہے۔ میں نے اپنے یہاں سے اس کی اشاعت کی اجازت چاہی، مگر اس کی اجازت نہ مل سکی۔
مسٹر حنیف نے بتایا کہ ہمارے مرکز میں اسپین کے مختلف شہروں کے مسلمان آتے ہیں۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues