الجامعة الإسلامية الدولية ابن رشد - الأندلس
الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۹
یہاں کا دعوتی لٹریچر لے کر دعوتی کام کرتے ہیں۔ میں نے اپنے یہاں سے چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس مسٹر حنیف کو دیا۔ انھوں نے اس کو پسند کیا اور کہا کہ آپ ہم کو یہ لٹریچر مزید بھیجیں، تاکہ ہم اس کو یہاں دعوتی مقصد کے لیے استعمال کر سکیں۔
قرطبہ پہنچ کر مجھ کو قاضی منذر القرطبی کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ اسپین کے سلطان عبدالرحمن ناصر نے جب قرطبہ میں الزہراء کا محل تعمیر کر لیا تو ایک دن وہ اپنے سونے کے تخت پر بیٹھا۔ دربار میں بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔ سلطان نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم نے سنا ہے کہ کبھی کسی نے ایسا عالی شان محل بنایا ہو۔ درباریوں نے خوب تعریف کی، مگر قاضی منذر سر جھکائے بیٹھے رہے۔ آخر میں سلطان نے قاضی منذر سے بولنے کے لیے کہا۔ قاضی منذر روپڑے۔ انھوں نے کہا: خدا کی قسم، میرا یہ گمان نہیں تھا کہ شیطان تمھارے اوپر اتنا زیادہ قابو پالے گا کہ وہ تم کو کافروں کے درجہ تک پہنچادے۔ سلطان نے کہا کہ دیکھئے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اور کیسے آپ مجھے کافروں کے درجہ تک پہنچارہے ہیں۔ اس کے بعد قاضی منذر نے قرآن سے سورہ الزخرف کی آیات 35-33 پڑھیں۔ ان آیتوں کو سن کر سلطان شدید طور پر متاثر ہوا اور رونے لگا۔ اس نے قاضی منذر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ آپ کو بہتر جزا عطا فرمائے اور مسلمانوں میں آپ جیسے بہت لوگ پیدا کرے۔
قرطبہ کے بعد مجھے میڈرڈ (Madrid) جانا تھا۔ یہ سفر میں نے ٹرین کے ذریعہ طے کیا۔ یہ ایک تیز رفتار ٹرین تھی جس کے ذریعے میں تقریباً چار گھنٹے میں قرطبہ سے میڈرڈ پہنچ گیا۔ میڈرڈ میں سعودی عرب کے تعاون سے ایک عظیم الشان مسجد اور اسلامی مرکز تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کا نام یہ ہے: (Centro Cultural Islamico De Madrid) المركز الثقافي الإسلامي بمدريد یہاں میں نے ظہر کی نماز ادا کی۔ اس سینٹر میں اسلام کے مختلف پہلوؤں، مثلاً سیرتِ رسول وغیرہ کے موضوع پر ایک مستقل نمائش (Exhibition) کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس سینٹر کو دیکھنے کے لیے کثرت سے زائرین یہاں آتے ہیں۔ یہاں زائرین کے درمیان بڑے پیمانے پر دعوتی کام کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دعوتی مقصد کے تحت ’’ڈسکور اسلام‘‘ کے عنوان سے یہاں ایک پروگرام
‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues