الجامعة الإسلامية الدولية ابن رشد - الأندلس
الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۴۲
(100 Quran for 100 Hotels) بنایا تھا۔ اس کے تحت دبئی کے ایک سو بڑے ہوٹلوں کے ریسپشن (reception) پر ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ ایک خوب صورت اسٹینڈ کے ساتھ رکھوایا گیا۔ دبئی ایک عالمی سیاحتی اور تجارتی مرکز ہے۔ اس لیے یہاں دنیا کے ہر مقام سے بکثرت سیاح آتے ہیں۔ چناں چہ دبئی اوقاف کے تعاون سے دبئی میوزیم (متحف دبئی) میں بھی قرآن ڈسٹری بیوشن کا کام شروع کیا گیا ہے۔ میوزیم کے ایگزٹ گیٹ (exit gate) پر ایک ریک (rack) میں ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا ترجمہ رکھا ہوا ہے۔ اس ریک پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: خذ هديتك (Take Your Gift)۔ میوزیم سے جاتے ہوئے سیاح عام طور پر یہاں سے اس کو لے لیتے ہیں۔ میوزیم کے سیکورٹی گارڈ نے بتایا کہ ہم ریک میں قرآن کا ترجمہ رکھتے ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں اس کی تمام کاپیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ دبئی کے کچھ اور بڑے ہوٹلوں کے کمروں میں بھی قرآن کا ترجمہ رکھوایا گیا ہے۔ مثلاً ناویل (Novotel Al Barsha) اور جُمیر ایچ ہوٹل، وغیرہ۔ یہاں ہوٹل کے ہر کمرے میں ہمارے ساتھیوں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھوایا ہے۔ اس کے علاوہ جُمیر مسجد اور البد یہ مسجد میں بھی ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھا گیا ہے، تاکہ اس کو یہاں آنے والے سیاحوں کے درمیان تقسیم کیا جاسکے۔
دبئی کے سفر سے واپسی پر میرے پاس ترجمہ قرآن کی صرف ایک کاپی موجود تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس کا استعمال کیسے کیا جائے ۔ اس کے بعد جہاز میں ایک امریکی خاتون سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایک بڑے گروپ کے ساتھ انڈیا آ رہی تھیں۔ اُن سے دیر تک اسلام کے موضوع پر باتیں ہوتی رہیں۔ آخر میں میں نے ان کو قرآن کا یہ ترجمہ اور کچھ دعوتی پمفلٹس دئے۔ انھوں نے خوشی کے ساتھ اس کو لیا اور کہا میں اس کو ضرور پڑھوں گی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ آدمی کو ہر وقت اپنے پاس قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر رکھنا چاہئے۔ کسی بھی وقت کوئی شخص مل سکتا ہے جس کو قرآن کا ترجمہ دے کر اُس تک خدا کا پیغام پہنچایا جاسکے۔ (ثانی اثنین خان)
‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues