Al-Risala · February 2015 · page 43

اعلی ترقی کا راز

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۴۳

اعلی ترقی کا راز

دنیا کے 100 ارب پتی (billionaires) افراد کا سروے کیا گیا ہے۔ اس سروے میں پایا گیا ہے کہ اکثر ارب پتی ایسے ہیں جو وراثت کے طور پر ارب پتی نہیں بنے۔ اُن کو کسی حکومت یا کسی ادارے کی طرف سے کوئی سپورٹ بھی نہیں ملا۔ انھوں نے صرف اپنی ذاتی کوشش سے اعلی ترقی حاصل کی۔ اُن میں سے اکثر نے غریبی کی حالت سے آغاز کیا اور پھر ترقی کرتے ہوئے وہ ارب پتی بن گئے۔

اس واقعے سے فطرت کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ محرومی صرف محرومی نہیں ہے، وہ آدمی کو ایک بہت بڑی چیز دیتی ہے اور وہ ہے طاقت و محرک (incentive)۔ فطرت کے قانون کے مطابق، یہ ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو محرومی کی حالت میں پاتا ہے، اس کے اندر آگے بڑھنے کا ایک طاقت ور جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ داخلی جذبہ اس کو مسلسل طور پر متحرک رکھتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کو کامیابی کی اعلی منزل تک پہنچا دیتا ہے:

Being deprived creates strong motivation.

کسی انسان کے لیے سب سے بڑی چیز خار جی فیور (favour) نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے سب سے بڑی چیز داخلی محرک ہے۔ فیور سے آدمی کے اندر قناعت (contentment) پیدا ہوتا ہے اور جس آدمی کو فیور نہ ملے، اس کے اندر عدم آسودگی (discontentment) کی نفسیات پیدا ہوتی ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ عدم آسودگی کی نفسیات آدمی کو باعمل بناتی ہے، جب کہ آسودگی کی نفسیات اس کو بے عملی میں مبتلا کر دیتی ہے۔

Out of the world's 100 richest people today, 27% are heirs and 73% are self-made. Of the self-made, 18% have no college degree, and 36% are children of poor parents, but some billionaires had neither degree nor wealthy parents. (Sunday Times of India, New Delhi, August 18, 2013, p. 12)

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page