اسلام اور سلطان
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۱۸
امام مالک بن انس (وفات : 179 ھ) اپنے استاد وہب ابن کیسان کے حوالے سے کہتے ہیں : انہ لا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها۔ (مسند الموطا للجوہری، حدیث نمبر 783) یعنی بلاشبہ اس امت کے دورِ آخر کی اصلاح بھی اسی طریقے کی پیروی سے ہوگی جس طریقہ کی پیروی سے امت کے دور اول کی اصلاح ہوئی۔ اول امت (earlier ummah) سے مراد وہی دور ہے جس کو متقدمین کا دور یا اسلاف کا دور کہا جاتا ہے۔ اور دورِ اسلاف پورا کا پورا وہی ہے جو خاندانی ریاست کے دور میں وجود میں آیا۔ اس سے یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ دور اول میں جس سیاسی ماڈل کو تمام علماء کے اتفاق رائے سے قبول کیا گیا تھا اور جس کے نتیجے میں امت کے تمام کام درست طور پر انجام پائے، وہی ماڈل امت کے بعد کے دور کے لیے بھی درست ہے۔ اسی طریقہ کے مطابق بعد کے زمانے میں بھی امت کی اصلاح ممکن ہے۔
صحابی رسول عبد اللہ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الإسلام والسلطان أخوان توأمان (كنز العمال، حدیث نمبر 14613)۔ یعنی اسلام اور سلطان دو جڑواں بھائی ہیں۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: الملك والدين توأمان (کشف الخفاء، حدیث نمبر (2329)۔ یعنی ملک اور دین دونوں جڑواں بھائی ہیں۔
ان روایتوں میں سلطان اور ملک، دونوں کے معنیٰ ایک ہیں۔ یعنی سیاسی اقتدار (political power)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کا رول اصلاً تائیدی رول (supporting role) ہے۔ سیاسی اقتدار کا کام یہ ہے کہ وہ اسلام کے لیے طاقت ور مددگار بنے، وہ اسلام کو شیلٹر (shelter) عطا کرے۔ تا کہ اس کے زیر سایہ تمام دینی کام اسوتھ (smooth) طور پر انجام پائیں۔
قرآن میں عدل یا قسط کے معاملے کو متعدی کے صیغے میں بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ لازم کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی عدل کی پیروی کرو (5:8)، قسط پر قائم رہو (4:135)۔ گویا سیاسی اقتدار کا کام عدل و قسط کی تنفیذ (enforcement) نہیں ہے۔ بلکہ وہ یہ ہے کہ وہ سماج میں
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues