Al-Risala · April 2016 · page 19

اسلام کا تاریخی رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۱۹

معتدل حالات قائم کرے تاکہ لوگوں کو یہ موقع ملے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنی زندگی میں عدل و قسط کے پیرو بن سکیں۔

سیاسی اقتدار کے اسی رول کی بنا پر اسلام میں سیاسی اقتدار کا کوئی ایک خارجی ماڈل نہیں ہے۔ سیاسی اقتدار کا کام یہ ہے کہ وہ اہل اسلام کو امن اور حفاظت عطا کرے۔ تاکہ دین کے تمام کام معتدل انداز میں انجام پائیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے علماء نے متفقہ طور پر خاندانی حکومت (dynasty) کے ماڈل کو درست ماڈل کی حیثیت سے قبول کر لیا جو کہ واضح طور پر ابتدائی خلافت کے ماڈل سے مختلف تھا۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ اس ماڈل کے تحت اہل اسلام کو امن اور حفاظت کا مقصد بخوبی طور پر حاصل ہو رہا ہے۔ اور تمام دینی کام بلا رکاوٹ انجام پا رہے ہیں جو کہ اس سے پہلے عملاً پورے طور پر حاصل نہ تھے۔

اسلام کا تاریخی رول

انسان کو اللہ نے آزاد مخلوق کی حیثیت سے بنایا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کو دریافت کرے۔ اور آزادانہ ارادے کے تحت اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ اس حقیقت کو بتانے کے لیے اللہ نے بار بار اپنے پیغمبر بھیجے ۔ ہزاروں سال کے دوران بڑی تعداد میں ہر علاقے میں پیغمبر آئے۔ لیکن انسان پیغمبروں کے ساتھ استہزاء (یس: 30) کا معاملہ کرتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین خداوندی کی کوئی تاریخ نہیں بنی۔

آخر میں اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ انسانی تاریخ میں مداخلت کرے۔ اور پیغمبروں کا مشن جو دعوت کے مرحلے پر ختم ہوتا رہا، اس کو خصوصی تائید کے ذریعے انقلاب (revolution) کے مرحلے تک پہنچائے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اسی مقصد کے ساتھ ہوئی۔ آپ کے ذریعے دین خداوندی کو دعوت سے شروع کیا گیا، اور پھر اس کو انقلاب کے مرحلے تک پہنچا دیا گیا۔ اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page