اسلام کا تاریخی رول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۲۰
بعد کسی نئے نبی کی ضرورت نہ تھی، اس لیے اعلان کر دیا گیا کہ پیغمبر اسلام سلسلہ نبوت کے آخری شخص (الاحزاب :40) ہیں۔
پیغمبر اسلام کے حوالے سے قرآن میں تین بار، لیُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (التوبة:33، الفتح:28، الصف:9) کے الفاظ آئے ہیں۔ ان آیتوں میں اظہارِ دین کا لفظ سیاسی حکومت کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ نظریاتی انقلاب کے معنی میں ہے۔ یہ ایک پُرامن انقلاب ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کو ایک نظریاتی غلبہ کا درجہ حاصل ہے۔ حالاں کہ سائنس یا سائنسدانوں کی کوئی سیاسی حکومت نہیں۔
اظہارِ دین سے مراد کوئی عملی نظام قائم کرنا نہیں۔ بلکہ اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ دین خداوندی کے راستے کی تمام رکاوٹوں کو عملاً ختم کر دیا جائے۔ تا کہ جو انسان دین خداوندی کے راستے پر چلنا چاہے، وہ آزادانہ طور پر اس پر چل سکے اور خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اپنی شخصیت ڈیولپ کرنے میں اس کو کوئی خارجی رکاوٹ نہ آئے۔
دینِ حق کی یہ رکاوٹیں بنیادی طور پر دو تھیں، ایک شرک (polytheism) اور دوسرے بادشاہت (kingship)۔ قدیم زمانے میں شرک اور بادشاہت کے نظام کو رفتہ رفتہ کامل غلبہ حاصل ہو گیا تھا۔ اس بنا پر عملاً یہ ناممکن ہو گیا تھا کہ کوئی شخص دین خداوندی کے راستے پر کامل آزادی کے ساتھ چل سکے۔ اور اپنے آپ کو اللہ کا مطلوب انسان بنائے۔
اعتقادی اعتبار سے شرک اور عملی اعتبار سے بادشاہت، اس راستے میں مستقل رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اللہ نے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو خصوصی تائید عطا کی۔ تا کہ ان دونوں نظاموں کو وہ غلبہ کے مقام سے ہٹادیں اور ایسے حالات پیدا کر دیں جن میں انسانی تاریخ اپنے مطلوب رخ پر سفر کر سکے۔
پہلے نشانے کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا يجتمع دينان في جزيرة العرب (موطا امام مالک ، حدیث نمبر 1862)۔ یعنی جزیرہ عرب میں دو دین اکٹھا نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues