اسلام کا تاریخی رول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۲۱
ہوں گے۔ ساتویں صدی میں جب آپ نے یہ فرمایا اس وقت یہ حال تھا کہ مکہ کے مقدس کعبہ کو شرک کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ کعبہ کی عمارت میں تقریباً تین سو ساٹھ بت رکھ دیے گیے تھے۔ یہ دراصل مختلف قبائل کے بت تھے۔ اس لیے مشرک قبائل کے لیے کعبہ نے مذہب شرک کے مرکز کی حیثیت حاصل کر لی تھی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خصوصی تائید کے تحت ایک دور رس منصوبہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں بیس سال کے اندر کعبہ کی حیثیت بدل گئی۔ وہ شرک کے مرکز کے بجائے توحید کا مرکز بن گیا۔ ایسا اس طرح ہوا کہ عرب قبائل کے سردار بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوئے ۔ اس طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ موقع ملا کہ وہ کعبہ کو بتوں سے پاک کر دیں، اور ابراہیمی نقشہ کے مطابق اس کو توحید کے مرکز کی حیثیت دے دیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا دوسرا نشانہ یہ تھا کہ بادشاہت کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ اس مشن کا ذکر ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں آیا ہے: إذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3120) یعنی جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، اور جب قیصر ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی اور قیصر نہ ہوگا۔ کسریٰ سلطنت ایران (Sassanid Empire) کا حکمراں تھا۔ اور قیصر سلطنت روم (Byzantine Empire) کا حکمراں تھا۔ یہ دونوں قدیم بادشاہی نظام کی علامت بنے ہوئے تھے۔ اللہ کو یہ منظور تھا کہ یہ دونوں بادشاہتیں ختم ہو جائیں۔ اور پھر اس کے بعد کوئی بادشاہت کا نظام دوبارہ دنیا میں قائم نہ ہو۔
یہ ایک بے حد مشکل منصوبہ تھا۔ اس منصوبہ کو اس طرح آسان بنا دیا گیا کہ پہلے پیغمبر اسلام کے زمانے میں ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر میں زبردست ٹکراؤ ہوا۔ اس کے نتیجے میں دونوں سلطنتیں کمزور ہو گئیں۔ اس کا اشارہ قرآن کی سورہ الروم کے ابتدا میں کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل عمر فاروق کے زمانے میں ہوئی، جبکہ اہل ایمان سے دونوں بادشاہتوں کا فوجی ٹکراؤ ہوا۔ اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues