Al-Risala · April 2016 · page 22

اسلام کا تاریخی رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۲۲

نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں سلطنتیں ٹوٹ کر عملاً ختم ہوگئیں۔

اس طرح انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہ دور ایک تاریخی عمل (historical process) کی صورت میں تھا۔ اس تاریخی عمل میں اہل اسلام اور سیکولر گروہوں نے مشترک طور پر کام کیا۔ یہ ایک عظیم تاریخی عمل تھا، جس کی تکمیل یورپ کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کے زمانے میں انجام پائی۔

شرک کے دور کا خاتمہ، توہماتی دور (age of superstition) کا خاتمہ تھا۔ اسلام سے پہلے پوری تاریخ میں توہماتی فکر چھایا ہوا تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار یہ توہماتی دور ختم ہوا۔ اور انسان کے درمیان عقلی تفکیر (rational thinking) آئی۔ جس کے نتیجے میں جدید علوم پیدا ہوئے۔ فطرت کے رموز دریافت ہوئے۔ سائنس کا دور آیا، جس نے انسانی تاریخ کو ایک نئے تاریخی دور میں پہنچادیا۔

قرآن وحدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اظہارِ دین کے منصوبے میں دو طرح کے اجزاء شامل تھے، ایک وہ جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں واقعہ بن گیا۔ شرک کے دور کا خاتمہ اسی پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ شرک کے دور کا خاتمہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے شروع ہوا، اور انھیں کے زمانے میں عملاً تکمیل تک پہنچ گیا۔ شرک کا کلچر اگر چہ اب بھی بعض گوشوں میں بظاہر موجود ہے، لیکن اب وہ کہیں بھی غالب حیثیت میں نہیں۔

اظہارِ دین کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو قرآن وحدیث میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً آیات کے ظہور کے بعد حق کی کامل تبیین (فصلت: 53)، یا حدیث کا یہ ارشاد: لیبلغن هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار، ولا يترك الله بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله هذا الدين، بعز عزيز أو بذل ذليل (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)، وغیرہ۔ اظہارِ دین کا یہ دوسرا پہلو، ایک ایسا پہلو تھا جو نسل در نسل گہری کوشش کے بعد مکمل ہونے والا تھا۔ اس لیے اللہ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس کام میں سیکولر لوگوں کی تائید بھی بھر پور طور پر حاصل ہو۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page