اسلام کا تاریخی رول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۲۳
رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: إن اللہ لیؤید هذا الدين بالرجل الفاجر ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔
اظہارِ دین کا یہ انقلاب اکیسویں صدی میں اپنے آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اب اہلِ ایمان کا یہ کام ہے کہ وہ اس پیدا شدہ مواقع کو بھر پور طور پر دینِ خداوندی کی عالمی دعوت کے لیے استعمال کریں۔ تا کہ کوئی پیدا ہونے والا انسان اس سے بے خبر نہ رہے کہ اس کے خالق نے اس کو کیوں پیدا کیا ہے۔ اور خالق کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) ان کے بارے میں کیا ہے۔ ربانی انسائیکلو پیڈیا قرآن میں بعض باتیں خبر کی زبان میں ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک انشاء کا معاملہ ہے۔ قرآن میں اسی نوعیت کی دو آیتیں ہیں۔ ان دونوں کا ترجمہ یہ ہے: کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لئے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگر چہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملائیں (18:109)۔ اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں۔ بے شک اللہ زبر دست ہے، حکمت والا ہے۔ (31:27)
قرآن کی ان آیتوں میں ایک عظیم حقیقت کا بیان ہے۔ یہ بیان صرف بیان کے لیے نہیں بلکہ وہ ایک عظیم الہی منصوبہ کا اعلان ہے۔ یہ ایک مطلوب چیز ہے کہ عالم تخلیق میں کلمات اللہ یا آلاء اللہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ اور اس کو لکھ کر تیار کیا جائے۔ یہ کام موجودہ دنیا کے محدود حالات میں نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے زیادہ بڑی ، ایک لا محدود دنیا در کار ہے۔ آخرت کی دنیا، اسی قسم کی ایک لا محدود دنیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آخرت کی دنیا میں کرنے کا ایک کام یہ ہوگا کہ کلمات اللہ اور آلاء اللہ کو در یافت کیا جائے اور ان کی بنیاد پر ایک انسائیکلو پیڈیا یا ئی لائبریری تیار کی جائے۔ عظیم انسائیکلو پیڈیا ہی ہو گی جس کو ہم نے ربانی انسائیکلو پیڈیا کا نام دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues