اسلام کا تاریخی رول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۲۴
موجودہ محدود دنیا میں یہ ربانی انسائیکلو پیڈیا لکھی نہیں جا سکتی۔ خالق نے اس دنیا کو اس لیے بنایا ہے کہ اس دنیا میں اس عظیم ربانی انسائیکلو پیڈیا کے لکھنے والے (writers) تیار کیے جائیں۔ پھر آخرت کی دنیا میں ان افراد کو وہ تمام ضروری مواقع اعلیٰ ترین سطح پر مہیا کیے جائیں، جن کو استعمال کر کے وہ اس ربانی انسائیکلو پیڈیا یا کو تیار کریں۔ یہ کام کوئی مشقت کا کام نہ ہوگا، بلکہ وہ آخری حد تک ایک محفوظ کام (enjoyable task) ہوگا۔ اس واقعے کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: اِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فَاكِهُوْنَ (36:55) ۔ بے شک جنت کے لوگ آج اپنے مشغلوں میں خوش ہوں گے۔
ربانی انسائیکلو پیڈیا کی تحریر میں اپنے آپ کو شامل کرنا، بلا شبہ ایک ایسا انقلابی تصور ہے جو آدمی کو آخری حد تک پر شوق بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کی تعمیر اس طرح کرنے لگتا ہے کہ وہ اس عظیم اور مقدس ٹیم کا ایک ممبر بن جائے۔
ربانی انسائیکلو پیڈیا کی تیاری کا نشانہ کسی صاحب ایمان کے لیے سب سے بڑا نشانہ ہے۔ جو صاحب ایمان اس نشانے کو دریافت کرلے، اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے پوری طرح خالی ہو جائے گا۔ نفرت، تشدد اور جنگ جیسی چیزوں میں اپنے کو مشغول کرنے کے لیے اس کے پاس وقت ہی نہیں ہوگا۔
قرآن کی مذکورہ آیتوں میں روشنائی اور قلم کا ذکر ہے۔ یہ دوسرے الفاظ میں تصنیفی منصوبہ کا حوالہ ہے۔ ان آیتوں میں روشنائی اور قلم کا لفظ تمثیل کی زبان میں ربانی انسائیکلو پیڈیا کی تیاری کے عظیم کام کو بتاتا ہے۔ یہ علامتی طور پر اس پورے انفراسٹرکچر کو بتا رہا ہے جو ربانی انسائیکلو پیڈیا کی تیاری کے لیے کائناتی سطح پر مطلوب ہوں گے۔
قرآن میں جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں اہل جنت کے لیے ہر قسم کی سہولتیں اعلیٰ سطح پر حاصل ہوں گی ۔ یہ نعمتیں اپنے آپ میں جنت کی واحد چیز نہیں۔ بلکہ قرآن کے بیان کے مطابق، وہ بطور ٹرٹل (فصلت (32) ہوگی۔ یعنی رب العالمين کی طرف سے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues