Al-Risala · April 2016 · page 25

اسلام کا تاریخی رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۲۵

مہمانی (hospitality) کے طور پر۔

اسلام نے انسان کے لیے زندگی کا جو تصور (concept) دیا ہے، اس میں نفرت اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ تصور انسان کے اندر اعلیٰ سوچ (high thinking) پیدا کرتا ہے، اس میں ہر قسم کی منفی سوچ اس طرح ختم ہو جاتی ہے جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ یہ تصور انسان کو مکمل معنوں میں ایک مثبت شخصیت (positive personality) بنا دیتا ہے۔

زندگی کے اس تصور کے مطابق، جنت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنت میووں اور حوروں کی ایک دنیا ہے، اور آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خود کش بمباری (suicide bombing) کی چھلانگ لگا کر اس دنیائے عیش میں پہنچ جائے۔ جنت کا یہ تصور، جنت کا کمتر اندازہ (underestimation) ہے۔ جنت ایک اعلیٰ نوعیت کی با معنی سرگرمیوں (meaningful activities) کا مقام ہے۔ نہ کہ محدود معنوں میں صرف ایک عیش خانہ۔ جنت میں داخلے کی پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جنتی دنیا کے لیے مستحق امیدوار (deserving candidate) بنائے۔ جنت میں داخلے کے لیے موجودہ دنیا میں تیاری کے عظیم جدوجہد کے کورس سے گزرنا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوگا کہ کوئی شخص جنت کی دنیا میں داخلے کا استحقاق رکھتا ہے یا نہیں۔

زندگی کا یہ تصور ایک شخص کی زندگی سے دنیارخی (worldly-oriented) زندگی کا مکمل خاتمہ کر دیتا ہے، وہ اس کو پورے معنوں میں آخرت رخی (akhirat-oriented) بنا دیتا ہے۔ توحید ایمپائر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا پیغمبرانہ مشن شروع کیا۔ یہ مشن توحید کا مشن تھا۔ یعنی توحید کو نظریاتی اعتبار سے سب سے زیادہ برتر نظریہ بنا دینا۔ مکہ کے سرداروں نے ایک بار آپ کو بلایا، آپ سے پوچھا کہ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ پیغمبر اسلام نے جواب دیا: كلمة واحدة تعطونيها تملكون بها العرب، وتدين لكم بها العجم ( سیرت ابن ہشام،

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page