اسلام کا تاریخی رول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۲۶
جلد 1 صفحہ 417 )۔ یعنی میں صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں، تم وہ کلمہ مجھ کو دے دو، تم عرب کے مالک ہو جاؤ گے، اور عجم تمھارے آگے جھک جائیں گے۔ یہاں کلمہ کا مطلب ہے آئیڈیالوجی۔ پیغمبر اسلام نے یہ بات سیاسی اقتدار کے معنی میں نہیں کہی تھی۔ بلکہ وہ نظریاتی غلبہ کے معنی میں تھی۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ دنیا میں ایک ایسا انقلاب آئے جب کہ تمام دلائل توحید کے حق میں ہو جائیں۔ اور تمام مواقع توحید کے موافق ہو جائیں۔ یہی وہ بات ہے جو آپ سے پہلے حضرت مسیح نے ان الفاظ میں کہی تھی: تم اس طرح عبادت کرو: آسمان میں رہنے والے اے ہمارے باپ، تیرا نام مقدس ہے۔ تیری بادشاہی آئے، جس طرح کہ تیرا منشا آسمان میں پورا ہوتا ہے اسی طرح اس دنیا میں بھی پورا ہو :
So pray this way: Our Father in heaven, may Your name be honoured, may Your kingdom come, may Your will be done on earth as it is in heaven. (Matthew, 6:9–10)
اللہ کے دین میں جبر نہیں (البقرہ: 256)۔ البتہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ دین کو آخری حد تک مدلل بنا دیا جائے۔ اس کے بعد یہ انسان کا اپنا معاملہ ہو کہ وہ اس کو مانتا ہے یا نہیں مانتا (الکہف: 29)۔ اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ضرورت تھی کہ دین کے موافق ایک انقلاب آئے۔ اس انقلاب کے لیے موحد انسانوں کی ایک ٹیم درکار تھی۔ مگر کسی نبی کے زمانے میں ایسی ٹیم نہ بن سکی۔ اس لیے پچھلے انبیاء کے زمانے میں ان کا مشن انقلاب (revolution) تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر ابراہیم کے ذریعے اللہ نے یہ منصوبہ بنایا کہ خصوصی اہتمام کے ذریعے ایسی مطلوب ٹیم تیار کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ساڑھے چار ہزار سال پہلے ابراہیم علیہ السلام نے یہ قربانی کی کہ اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسادیا۔ اس کے بعد دو ہزار سال سے زیادہ مدت میں توالد و تناسل کے ذریعے صحرائی ماحول میں ایک نئی نسل تیار ہوئی۔ تاریخ میں اس نسل کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اسی نسل کے منتخب افراد تھے۔ مطلوب انقلاب اچانک نہیں ظہور میں آسکتا تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ تاریخ میں
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues