Al-Risala · April 2016 · page 27

اسلام کا تاریخی رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۲۷

ایک نیا عمل (process) شروع کیا جائے۔ جو انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، مختلف مراحل سے گزرے۔ اور پھر وہ اپنے نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچے۔ یہ عمل عرب میں شروع ہوا۔ اور مغرب میں جدید تہذیب (modern civilization) کی صورت میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔

اس انقلاب کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ تھا کہ علوم کی ترقی اس طرح ہو کہ تمام علمی اور سائنسی دلائل دین خداوندی کی تصدیق بن جائیں۔ یہ مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ تھا، جس کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: سُنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ اس انقلاب کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ عملی اعتبار سے یہ اسباب دین خداوندی کے مویّد (supporter) بن جائیں۔ یہ انقلاب صرف اہل ایمان کے ذریعے نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس کے لیے دوسری قوموں کو بھی اس عمل کا موید بنا دیا۔ یہ پیشین گوئی ایک حدیث رسول میں اس طرح ملتی ہے: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3062)۔

اکیسویں صدی میں یہ تائیدات اپنی آخری صورت میں حاصل ہو چکی ہیں۔ مثلا موجودہ زمانے میں قول و عمل کی آزادی کا انسان کے لیے ایک ناقابل تنسیخ حق قرار پانا، ٹکنالوجی کی ترقی کے ذریعے ہر قسم کے امکانات کا اعلیٰ سطح پر کھل جانا، پرامن طریقہ کار کے ذریعہ ہر مقصد کا حصول ممکن ہو جانا، ساری دنیا میں کھلا پن (openness) کا ماحول قائم ہو جانا، وغیرہ۔ ابتدائی دور میں، اس عمل کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کے لیے ایک تائیدی شلٹر (supporting shelter) درکار تھا۔ اہل اسلام کو سیاسی طاقت دے کر اس شلٹر کا انتظام کیا گیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک اہل اسلام کی یہ سیاسی طاقت اس عمل کو تائیدی شلٹر فراہم کرتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری منزل پر پہنچ گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page