Al-Risala · April 2016 · page 39

اسلام کی تاریخ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۳۹

کہ اس کتاب میں سیاسی نوعیت کے واقعات کا ذکر تو کیا گیا ہے، لیکن اس میں اسلام کے دعوتی پہلو کی تاریخ موجود نہیں۔ اسی طرح ابن کثیر نے تاریخ کے موضوع پر ایک ضخیم کتاب لکھی، جس کا نام البدایة والنہایۃ ہے، یعنی از اول تا آخر۔ مگر اس کتاب کا حال بھی یہ ہے کہ اس میں اسلامی تاریخ کے دوسرے واقعات کے ساتھ موجود ہیں، لیکن اسلام کی دعوتی تاریخ اس کے اندر موجود نہیں۔ سیاسی پیٹرن کا تعلق صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود نہ رہا۔ یہ پیٹرن ہر شعبہ علم میں چھا گیا۔ مثلاً جب حدیث کی تدوین ہوئی تو حدیث کی کتابوں میں کتاب المغازی اور کتاب الجہاد کے ابواب تفصیل کے ساتھ موجود ہیں، لیکن کتاب الدعوة والتبلیغ ان میں موجود نہیں۔ اسی طرح عباسی دور میں فقہ پر جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں بھی کتاب المغازی اور کتاب الجہاد کے تفصیلی ابواب موجود ہیں، لیکن فقہ کی کسی کتاب میں کتاب الدعوة والتبلیغ موجود نہیں، وغیرہ۔ یہی وہ کتابیں تھیں جن کو پڑھ کر بعد کی مسلم نسلوں کا ذہن بنایا۔ اس کے نتیجے میں بعد کے مسلمانوں میں سوچنے کا دعوتی پیٹرن رائج نہ ہوسکا، بلکہ سوچنے کا سیاسی پیٹرن رائج ہو گیا۔ مثلاً شاہ ولی اللہ دہلوی کی ایک کتاب حجۃ اللہ البالغہ ہے، جس کا موضوع اپنے نام کے لحاظ سے حجۃ اللہ ہے، لیکن اس میں دعوت کا باب سرے سے موجود نہیں۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق اللہ کی حجت لوگوں کے اوپر دعوت کے ذریعے قائم ہوتی ہے (النساء: 165)۔

عجیب بات ہے کہ اسلامی تاریخ کے دعوتی پہلو پر باقاعدہ کتاب لکھنے کا کام سب سے پہلے ایک مسیحی مستشرق نے کیا۔ جس کا ریفرنس یہ ہے:

T. W. Arnold, The Preaching of Islam, first published in 1896 سیاسی پیٹرن پر لکھی ہوئی تاریخ کی کتابوں کے پڑھنے سے جو ذہن بنا، وہ وہی تھا جس کو سیاسی اور قومی ذہن کہا جا سکتا ہے۔ تاریخ نگاری کا یہ پیٹرن جاری تھا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ آیا۔ بیسویں صدی میں مسلمان نئے حالات سے دوچار ہوئے۔ ان کا ایمپائر، مثلاً مغل ایمپائر اور عثمانی ایمپائر ٹوٹ گیا۔ مسلمانوں کے اوپر ہر اعتبار سے مغربی قوموں کا غلبہ قائم ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page