Al-Risala · April 2016 · page 40

اسلام کی تاریخ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۴۰

مغربی قو میں نئی طاقت کے ساتھ ابھریں، اور عملاً سارے عالم پر چھاگئیں، جن میں مسلم قومیں بھی شامل تھیں۔

یہ صورتِ حال مسلمانوں کے لئے ایک سیاسی چیلنج بنی ہوئی تھی۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر سیاسی رد عمل کا ذہن پیدا ہوا۔ اسی زمانے میں کارل مارکس کا نظریہ تاریخ بڑے پیمانے پر پھیلا۔ کارل مارکس نے جو نظریہ تاریخ پیش کیا، اس کا خاص پہلو یہ تھا کہ اس نے تاریخ کی ایک مادی تعبیر پیش کی، جس کو مادی تعبیر تاریخ (material interpretation of history) کہا جاتا ہے۔ 1917 میں جب کارل مارکس کے پیروؤں (کمیونسٹ پارٹی) کو روس میں حکومت قائم کرنے کا موقع ملا تو اس کے بعد مارکسی فلسفہ ساری دنیا میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ ان حالات کے زیر اثر مسلم دنیا میں ایک ظاہرہ پیدا ہوا۔ یہ ظاہر ہ زیادہ تر زمانی حالات سے تاثر پذیری کا نتیجہ تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ کچھ مسلم مفکرین نے اسلام کو وقت کے معیار کے مطابق ثابت کرنے کے لئے، اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation of Islam) پیش کرنا شروع کیا۔ ان مسلم مفکرین میں دو نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، عرب دنیا میں سید قطب مصری (وفات: 1966)، اور برصغیر ہند میں سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات: 1979)۔

اسلام کی یہ سیاسی تعبیر وقت کی مسلم نسلوں کے مزاج کے مطابق تھی۔ چناں چہ وہ عرب اور غیر عرب دنیا میں تیزی سے پھیل گئی۔ اس سیاسی نظریے کے تحت ہر زبان میں لٹریچر تیار کیا گیا۔ جماعتیں اور ادارے بنائے گئے۔ اس سیاسی نظریے کے تحت مسلمانوں میں سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ اسلام کی سیاسی تعبیر کے اس نظریے کے تحت مسلمانوں کے درمیان جو سرگرمیاں شروع ہوئیں، ان کا نشانہ حکومت پر قبضہ کرنا تھا۔ تا کہ ان کے مفروضہ ذہن کے تحت ہر جگہ اسلام کا نظام قائم کیا جاسکے۔ مگر ہر قسم کی قربانیوں کے باوجود ان عناصر کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ جو ہوا وہ صرف یہ تھا کہ مسلمان ہر جگہ عملاً دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک اقتدار پر قابض گروہ اور دوسرا اقتدار سے محروم گروہ۔ ان دونوں طبقوں کے درمیان لامتناہی طور پر حریفانہ تعلق قائم ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page